آئی ایم ایف کی شرط ماننے سے سیکیورٹی پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے، وزیراعظم

0
108

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب بھی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جاتے ہیں مجبوری میں جاتے ہیں ، قرض لینے کیلئے شرائط ماننے سے سیکیورٹی پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے،کوشش ہے ہماری حکومت، عوام ایک سمت میں چلیں، اگر معیشت درست نہیں ہو تو آپ اپنے آپ کو طویل عرصے تک محفوظ نہیں رکھ سکتے،جب تک ہم بحیثیت قوم ترقی نہیں کریں گے ، صرف ایک طبقہ ترقی کرجائے تو قوم ہمیشہ غیر محفوظ رہے گی۔قومی سلامتی پالیسی کے پبلک ورڑن کے اجرا کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ارتقا بہت غیر محفوظ حالات میں ہوا جس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری سیکیورٹی فورسز نے ملک کو محفوظ بنایا اس کے مقابلے میں دیگر مسلمان دنیا کے ممالک مثلاً لیبیا، صومالیہ، شام، افغانستان کی افواج اپنے ملک کی حفاظت نہیں کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے بہت سے پہلو ہیں، اگر ایک ہی پہلو پر توجہ دی جائے تو ہمارے پاس سوویت یونین کی مثال ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور فورسز بھی سوویت یونین کو اکٹھا نہ رکھ سکیں۔ہماری کوشش ہے کہ ہماری حکومت، عوام ایک سمت میں چلیں، اگر معیشت درست نہیں ہو تو آپ اپنے آپ کو طویل عرصے تک محفوظ نہیں رکھ سکتے۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہر کچھ عرصے بعد آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی سیکیورٹی متاثر ہوگی کیوں کہ ہمارے پاس کبھی بھی مشترکہ نیشنل سیکیورٹی کا تصور نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ معیشت میں بھی کبھی یہ نہیں سمجھا گیا کہ ہمیں اپنے آپ کو کس طرح محفوظ بنانا ہے، شرح نمو بڑھتی تھی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ جاتا تھا جس سے روپے پر دباؤ پڑتا تھا اور آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا تھا