ریاض (این این آئی) وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی قیادت میں پاکستان کے پاور سیکٹر کے اعلیٰ سطحی وفد نے ریاض میں مملکتِ سعودی عرب کے انرجی ورکنگ گروپ سے اہم ملاقات کی جس میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ اور مضبوط تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو نئی جہت دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مشترکہ انرجی ورکنگ گروپ کے اجلاس میں پاکستانی وفد نے سعودی وزارتِ توانائی کے بجلی کے امور کے معاون وزیر، انجینئر ناصر القحطانی سے ملاقات کی۔ اجلاس میں سعودی وزارتِ توانائی کے معاون وزیر برائے آئل اینڈ گیس، محمد الابراہیم، اور نائب وزیر برائے آئل اینڈ گیس، عزت مآب ماجد العتیبی نے بھی شرکت کی۔ ملاقات کے دوران عالمی توانائی کی منتقلی، توانائی کے شعبے میں بدلتے ہوئے رجحانات اور پاکستان کے پاور سیکٹر میں جاری اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے پاکستان کے پاور سیکٹر میں جاری جامع اصلاحاتی پروگرام پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ حکومت ادارہ جاتی نظم و نسق کو مزید مؤثر بنانے، شعبے کی کارکردگی بہتر کرنے، ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے اور مالیاتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے مربوط اقدامات پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ حکومت نجی شعبے کی مؤثر شمولیت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے جبکہ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب، قومی گرڈ کی توسیع اور صاف توانائی کے مؤثر انضمام کے لیے ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کی جدید خطوط پر ترقی ناگزیر ہے۔
اجلاس کے دوران پاکستانی وفد نے بجلی کی ترسیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کے نمایاں مواقع سے آگاہ کرتے ہوئے قومی ٹرانسمیشن گرڈ کی توسیع کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر پاور سیکٹر میں جاری ڈیجیٹلائزیشن، بالخصوص اسمارٹ میٹرنگ اور ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی) کے نفاذ سے متعلق اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اقدامات تکنیکی و تجارتی نقصانات میں کمی، نظام کی آپریشنل استعداد میں اضافے اور صارفین کو بہتر خدمات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔وفاقی وزیر توانائی نے پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی انرجی ورکنگ گروپ کو پاکستان کے دورے کی باضابطہ دعوت دی، تاکہ وہ پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات کا براہِ راست مشاہدہ کر سکیں اور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر، ڈیجیٹلائزیشن اور اسمارٹ یوٹیلٹی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کے ترجیحی مواقع کا جائزہ لے سکیں۔
انہوں نے یقین دلایا کہ حکومتِ پاکستان سعودی سرمایہ کاروں اور شراکت داروں کو ہر ممکن سہولت اور مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ملاقات کے اختتام پر دونوں وفود نے توانائی کے شعبے میں قریبی رابطوں کو برقرار رکھنے، آج ہونے والی گفتگو کو عملی تعاون میں تبدیل کرنے اور پائیدار اقتصادی ترقی، توانائی کے تحفظ اور علاقائی تعاون کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک نے ایک مضبوط، جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی توانائی کے مستقبل کے لیے مشترکہ وڑن کا بھی اعادہ کیا۔

