اسلام آباد ( این این آئی) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی جانب سے نجی شعبے کے ایک شخص کو یونیورسٹی آف فیصل آباد کے بورڈ آف گورنرز میں کمیشن کی نمائندگی کے لیے نامزد کرنے پر تعلیمی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے ۔
ایچ ای سی کی طرف سے جاری کر دہ ایک لیٹر میں ایک غیر سر کاری شخص مرتضیٰ نور کو یونیورسٹی آف فیصل آباد کے 24ویں اجلاس میں ایچ ای سی کی نمائندگی کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ نامزدگی ڈپٹی ڈائریکٹر کوآرڈینیشن کے دستخط سے جاری ہوئی اور بتایا گیا کہ یہ فیصلہ براہِ راست چیئرمین ایچ ای سی نے کیا ہے۔
تاہم مختلف حلقوں کی جانب سے اس اقدام کے قانونی جواز پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔دستیاب معلومات کے مطابق مرتضیٰ نور سرکاری ملازم نہیں ہیں بلکہ ایک نجی کنسورشیم سے منسلک ہیں ۔ ماہرین تعلیم اور قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی جیسے قانونی اداروں کی نمائندگی ہمیشہ سرکاری افسران یا نامزد سرکاری نمائندوں کو کرنی چاہیے۔ کسی غیر سرکاری شخصیت کو یہ ذمہ داری دینا نہ صرف روایتی طریقہ کار سے انحراف ہے بلکہ اس سے احتساب اور مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہوسکتا ہے ۔
ہائر ایجو کیشن کمیشن نے اپنے خط میں وضاحت کی ہے کہ یہ نامزدگی صرف اسی اجلاس کے لیے ہے۔ اس کے باوجود، معاملہ تعلیمی حلقوں میں تشویش کا باعث بنا ہے ۔

