اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ دھرنوں اور احتجاج کی سیاست سے معیشت اور پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانا ملک دشمنی ہے،پی ٹی آئی ہوش کے ناخن لے ،پی ٹی آئی احتجاجی سیاست سے ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا ادراک کرتے ہوئے لانگ مارچ ختم کرے، حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ہرممکن اقدامات اٹھائے گی، حکومت اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ کمیٹی نے بامعنی اور پرخلوص مذاکرات سے مسائل کا مل بیٹھ کر حل تلاش کرنے کی کوشش کی، ملک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا، کشمیر چوک کشمیر کے نام سے منسوب ہے،یہی شاہراہ ایک دن سری نگر تک پہنچے گی،کشمیریوں کو آزادی اور بنیادی حقوق ملیں گے۔وہ منگل کویہاں کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔تقریب میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ،وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت طلال چوہدری بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت ملک کی ترقی اورمعاشی استحکام کے لیے دن رات کوشاں ہے ، ہم نے اڑھائی سال کی محنت سے ملکی معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کیا،ملکی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے ۔انہوںنین کہاکہ ایک طرف ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری ہے اور دوسری طرف بدقسمتی سے ایک بار پھر لانگ مارچ،دھرنے اور احتجاج کی بھیانک سیاست نمودار ہورہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے باہمی مشاورت سے طے کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ بامعنی،بامقصد اور خلوص پر مبنی بات چیت کریں تاکہ لانگ مارچ،دھرنے اور احتجاج کی سیاست کا خاتمہ کریں اور مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کریں،حکومت اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ کمیٹی نے دودن تک سپیکر چیمبر میں ان سے بات چیت کی،امید تھی کہ بات چیت کے مثبت نتائج نکلیں گے اور دھرنوں کی سیاست ڈائیلاگ سے ختم ہوگی، دونوں جماعتوں نے سنجیدگی سے پی ٹی آئی سے بات کی تاہم دوسری طرف سے طے شدہ مسودہ کو باربار تبدیل کیا گیا جس سے ان کا مقصد واضح تھا کہ بات چیت کو کامیاب نہیں ہونے دینا۔وزیر اعظم نے دو ٹوک طور پر کہا کہ دھرنے اور احتجاج کی سیاست سے ملکی معیشت نشانہ بنے گی، برآمدات،صنعتی پیداوار متاثر ہوگی جو ملک و قوم کا نقصان ہوگا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے اڑھائی سال میں اجتماعی کاوش سے ملکی معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کیا،ملک میں معاشی استحکام آیا،میکرو اکنامک استحکام بہت مشکل سے حاصل ہوا،کیا ترقی کے پہیے کو دوبارہ جام کرنا ملک دشمنی نہیں؟ کیا اس سے پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانا مقصود ہے،انہوں نے کہا کہ ستمبر میں گزشتہ سال ستمبر اور پورے سال کے مقابلہ میں برآمدات میں اضافہ ہوا،آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا،ترسیلات زر بڑھیں،ملکی پیداوار میں اضافہ ہوا،اس کو احتجاج اور دھرنوں سے نقصان پہنچانا ملک دشمنی ہے۔

