Tuesday, June 23, 2026
ہومHomeیکم جولائی سے درآمدی گاڑیوں پر نئی ڈیوٹی اور ٹیکس شرحوں کا...

یکم جولائی سے درآمدی گاڑیوں پر نئی ڈیوٹی اور ٹیکس شرحوں کا اعلان

اسلام آباد (این این آئی) حکومت نے یکم جولائی سے گاڑیوں کی مختلف کیٹیگریز پر عائد ٹیکسز میں رد و بدل کردیا ہے۔

پارلیمنٹ سے منظور شدہ فنانس بل 2026-27کے مطابق 2000سے 3000سی سی تک کی درآمدی گاڑیوں پر 86فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی، جبکہ 3001 سی سی یا اس سے بڑی درآمدی گاڑیوں پر 92فیصد ڈیوٹی لاگو کی جائے گی۔فنانس بل کے مطابق مختلف کیٹیگریز کی درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں نمایاں کمی بھی کی گئی ہے۔

1800سی سی گاڑیوں پر مجموعی ڈیوٹی اور ٹیکس کی شرح 156 فیصد سے کم کرکے 74 فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ 1500سی سی سے بڑی گاڑیوں پر یہ شرح 91فیصد سے کم کرکے 57فیصد مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح 1000سے 1500سی سی تک کی درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکس 76فیصد سے کم کرکے 52فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ 850سی سی گاڑیوں پر یہ شرح 66فیصد سے کم کرکے 42فیصد تک لائی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایرانی صدر کی اہم دورے پر پاکستان آمد، نور خان ایئر بیس پر پرتپاک استقبال

فنانس بل میں نئی آٹو پالیسی کے تحت 1800سی سی تک کی گاڑیوں پر اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہ کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔دوسری جانب بڑی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر 30سے 40فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے۔ دستاویزات کے مطابق 75 ہزار ڈالر مالیت تک کی درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر 30فیصد کسٹم ڈیوٹی ہوگی، جبکہ ایک لاکھ 10ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 40فیصد کسٹم ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

فنانس بل کے مطابق یکم جولائی سے وفاق میں 1000سی سی تک کی گاڑیوں پر ایک مرتبہ 10ہزار روپے فکس ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ 2010ء سے پہلے کے ماڈلز کی 1000سی سی تک گاڑیوں پر 20 ہزار روپے ٹوکن ٹیکس مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 1001سے 1300سی سی تک کی گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس مجموعی انوائس مالیت کے 0.3فیصد کے برابر ہوگا۔

نئے مالیاتی اقدامات کے تحت یکم جولائی سے وفاق میں ٹوکن ٹیکس کو مجموعی انوائس مالیت کے 0.25فیصد کے برابر مقرر کیا گیا ہے۔ فنانس بل کے مطابق 2010سے پہلے کے ماڈلز کی گاڑیوں پر 2500روپے جبکہ 2010کے بعد کے ماڈلز کی گاڑیوں پر 6200 روپے ٹوکن ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

Related News

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Popular

Comments