Tuesday, October 6, 2026
ہومHomeکلی معیشت کا استحکام معیشت کی بنیادی ضرورت ہے، وزیر خزانہ

کلی معیشت کا استحکام معیشت کی بنیادی ضرورت ہے، وزیر خزانہ

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کلی معیشت کا استحکام معیشت کی بنیادی ضرورت ہے، حکومت کی جانب سے مالی اور بیرونی شعبے میں استحکام کے نتیجے میں مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ، پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے مقامی و غیرملکی سرمایہ کاری کا امتزاج ضروری ہے ، حکومت عارضی تیزی کے بجائے ذمہ دارانہ اور پائیدار معاشی نمو یقینی بنانے کی راہ پرگامزن ہے، معاشی سرگرمیوں میں روزمرہ کی رکاوٹوں سے معیشت کونقصان پہنچتاہے،ملک کو ہر قسم کے خود پیداکردہ معاشی نقصان سے محفوظ رکھا جائے ،موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پالیسی، مالی وسائل اور منصوبوں کی عملی تیاری کو یکجا کرنا ہوگا۔منگل کواقوام متحدہ کے ادارے یواین ڈی پی کے زیراہتمام ایس ڈی جیز انویسٹمنٹ فئیر2026سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ چندبرس قبل پاکستان کو جی ڈی پی کے 12.5 فیصد کے مجموعی دوہرے خسارے کا سامنا تھا جو اب جون کے اختتام تک کم ہو کر تقریباً 2.6فیصد رہ گیا ہے، مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر ہے جبکہ مسلسل تین سال سے بنیادی مالی سرپلس ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بیرونی شعبے میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور حال ہی میں سٹیٹ بینک زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچے ہیں جو تقریبا ًتین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں، معاشی اصلاحات کے آغاز کے وقت ملک کے پاس صرف تقریبا ًدو ہفتوں کی درآمدات کے برابر زرمبادلہ موجود تھا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ حکومت معاشی نمو کو اہمیت دیتی ہے تاہم یہ نمو ذمہ دارانہ بنیاد پر ہونی چاہیے تاکہ ماضی کے عروج و زوال کے معاشی چکروں سے بچا جا سکے، تقریبا تین سال قبل ملکی معیشت سکڑا ئوکا شکار تھی جبکہ رواں مالی سال کے لیے تقریبا ً4 فیصد اقتصادی نمو کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ افراط زر میں حالیہ اضافہ بیرونی اور علاقائی تنازعات کے اثرات کے باعث ہوا تاہم پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار ہے، حکومت اور سٹیٹ بینک مہنگائی و اقتصادی نمو سمیت اہم معاشی اشاریوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کلی معیشت کے استحکام بحال ہونے سے غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے منافع اور ڈیویڈنڈ کی وطن واپسی بھی معمول کا عمل بننے میں مدد ملے گی، اس کے بعد مقامی سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہونا اور ان کی سرمایہ کاری میں اضافہ غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے بھی بنیاد فراہم کرے گا

Related News

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Popular

Comments