Wednesday, October 21, 2026
ہومHomeایف بی آر کے فیکٹریوں پر چھاپے ناقابل قبول،پی سی جی اے...

ایف بی آر کے فیکٹریوں پر چھاپے ناقابل قبول،پی سی جی اے کا ایف بی آر کی کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار

ملتان (این این آئی) پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جننگ فیکٹریوں پر چھاپوں، تالے توڑ کر ریکارڈ قبضے میں لینے اور کاروباری برادری کو ہراساں کرنے کی مبینہ کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔ چیئرمین پی سی جی اے سہیل محمود ہرل نے واضح کیا ہے کہ اگر فیکٹریوں پر چھاپوں کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو جننگ فیکٹریوں کی تالہ بندی کرکے ہڑتال کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ پی سی جی اے ہاؤس ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل محمود ہرل نے کہا کہ جننگ سیکٹر ملکی معیشت، زرعی شعبے اور دیہی علاقوں میں روزگار کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، لیکن نامناسب پالیسیوں، بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بھاری ٹیکسوں نے اس صنعت کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت بے روزگاری کے خاتمے کی بات کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب مینوفیکچرنگ انڈسٹری، بالخصوص زرعی شعبے سے منسلک جننگ سیکٹر کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جننگ انڈسٹری دیہی علاقوں میں ہزاروں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے، مگر کاروباری لاگت میں اضافے اور ناموافق پالیسیوں کے باعث یہ شعبہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ سہیل محمود ہرل نے کہا کہ جننگ سیکٹر پر سیلز ٹیکس کی شرح 18 سے 22 فیصد تک پہنچنے کے باعث کاروباری مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں، جبکہ ان کے بقول دنیا کے دیگر ممالک میں جننگ انڈسٹری کو اس نوعیت کے ٹیکسوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی فصل، معیاری بیجوں کی فراہمی اور زرعی پیداوار میں اضافے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، لیکن اس کے برعکس صنعت پر ٹیکسوں اور کارروائیوں کا دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، جس سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ چیئرمین پی سی جی اے نے کہا کہ حیدرآباد ریجنل ٹیکس آفس کے دائرہ اختیار میں فیکٹریوں پر چھاپوں اور مبینہ طور پر تالے توڑ کر ریکارڈ اٹھانے کی کارروائیوں پر کاروباری برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ بالخصوص ضلع سانگھڑ، جو کپاس کی پیداوار کے بڑے مراکز میں شامل ہے، میں ایسی کارروائیوں سے جنرز کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس ریجنل ٹیکس آفس ملتان اور بہاولپور کا پی سی جی اے کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے فیکٹریوں پر چھاپوں سے گریز کرنا قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حیدرآباد ریجنل ٹیکس آفس کے طرزِ عمل کا بھی جائزہ لیا جائے اور کاروباری برادری کے تحفظات دور کیے جائیں۔ سہیل محمود ہرل نے کہا کہ پی سی جی اے ٹیکس چوری کی ہرگز حمایت نہیں کرتی اور نہ ہی کسی کو قانون سے بالاتر سمجھتی ہے، تاہم قانون کے مطابق ٹیکس ادا کرنے والے کاروباری افراد اور صنعت کاروں کو بلاجواز ہراساں کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی کارروائی سے قبل متعلقہ فیکٹری مالکان کو باقاعدہ نوٹس جاری کیے جائیں، انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے اور ایسوسی ایشن سے مشاورت کے بعد قانون کے مطابق اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ناموافق کاروباری حالات اور پالیسیوں کے باعث گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 100 جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، جو ملکی معیشت اور روزگار کے لیے تشویش ناک صورت حال ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب صنعت کار پہلے ہی بھاری ٹیکسوں، مہنگی بجلی اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کا سامنا کر رہے ہیں تو ایسے حالات میں چھاپوں اور سخت کارروائیوں سے نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی اور صنعت مزید مشکلات سے دوچار ہو گی۔ چیئرمین پی سی جی اے نے چیئرمین ایف بی آر اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ جننگ فیکٹریوں پر چھاپوں کا فوری نوٹس لیا جائے، کاروباری برادری کو ہراساں کرنے کا سلسلہ روکا جائے اور صنعت کے لیے قابلِ عمل، شفاف اور کاروبار دوست پالیسی اختیار کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جنرز برادری متحد ہے اور اربوں روپے ٹیکس کی مد میں قومی خزانے میں جمع کرانے والے اس شعبے کو احتجاج اور ہڑتال پر مجبور نہ کیا جائے، بصورت دیگر فیکٹریوں کی تالہ بندی سمیت سخت لائحہ عمل اختیار کیا جا سکتا ہے۔ پریس کانفرنس میں پی سی جی اے کے وائس چیئرمین مظہر شعیب خان، سابق چیئرمین حاجی محمد اکرم اور سینئر ممبر ملک طلعت سہیل بھی موجود تھے، جبکہ ویڈیو لنک کے ذریعے ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین کیول مل، وائس چیئرمین غلام قادر احمد، سابق چیئرمین ڈاکٹر جسو مل، چوہدری وحید ارشد، سابق سینئر وائس چیئرمین مدن لعل اور ہریش کمار، سابق وائس چیئرمین راجہ رمیش کمار اوتھوانی اور داؤد کریم سمیت ثاقب سعید، مہندر گھنوانی، جے کمار، منیل کمار، پون کمار، شاہد ندیم، خلیل خان علیانی، فیضان اسلم، گوپال دیوانی، ونود کمار اور ڈاکٹر لیلا رام نے شرکت کی۔

Related News

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Popular

Comments