اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مبنی جامع رپورٹ جرنی تھرو ریفارم اینڈ انوویشن 2026جاری کر دی ہے،رپورٹ میں نومبر 2024 سے ستمبر 2026 تک کی عدالتی اور ادارہ جاتی اصلاحات کا احاطہ کیا گیا ہے،رپورٹ میں عدالتی اصلاحات، مقدمات کے مثر انتظام اور زیرِ التوا مقدمات میں کمی سے متعلق پیش رفت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق رپورٹ میں ڈیجیٹل تبدیلی، ادارہ جاتی احتساب اور انصاف تک عوامی رسائی بہتر بنانے کے اقدامات کی تفصیلات شامل ہیں۔ جس کے مطابق 86 نکاتی عدالتی اصلاحاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی پیش رفت پیش کی گئی ہے۔ عدالتی اصلاحات پر عملدرآمد کے لیے منظم نگرانی، خصوصی ورکنگ گروپس اور باقاعدہ جائزے کا نظام وضع کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں مقدمات کے فیصلوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا،پرانے اور طویل عرصے سے زیرِ التوا مقدمات کے فیصلوں پر خصوصی توجہ دی گئی جبکہ عدالتی کارکردگی کی نگرانی کے لیے ڈیٹا پر مبنی نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا۔ اسی طرح سپریم کورٹ کی ڈیجیٹل خدمات میں توسیع اور عدالتی طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے تحت ملک گیر عدالتی اصلاحات پر پیش رفت کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ترجیحی مقدمات کے مقررہ مدت میں فیصلے اور ماڈل ٹرائل کورٹس کا قیام اہم اصلاحاتی اقدامات میں شامل ہیں جبکہ نظامِ انصاف میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال اور عدالتی تجزیاتی نظام کی ترقی کو بھی رپورٹ میں اجاگر کیا گیا ہے۔

