کسی کو علم نہیں تھا تحریک انصاف تحریک تباہی بن کر پورے پاکستان میں تباہی پھیلا دے گی’ شہباز شریف

0
121

لاہور( این این آئی) سابق وزیر اعظم وپاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ کسی کو علم نہیں تھا کہ اس وقت جو تحریک انصاف تھی وہ تحریک تباہی بن جائے گی اور پورے پاکستان میں تباہی پھیلا دے گی،9 مئی کے آلہ کاروں کی سہولت کاری بھی ملک دشمنی ہے ،ہم نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا اور انصاف کی طلب کے لیے ہم بلا امتیاز عدالتوں میں حاضری کو اپنا فرض سمجھتے ہیں،الیکشن وقت پر ہی ہوں گے، یہ قانون کی منشا ہے اور جمہوری تقاضوں کی بھی منشا ہے،آج میں عدالت میں پیش ہوا، نواز شریف اسلام آباد کی عدالت میں حاضر ہوئے ، انصاف کی تلاش میں اس سے زیادہ لیول پلیئنگ فیلڈ کیا ہوسکتی ہے؟۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب ، (ن) لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطاء اللہ تارڑ ، لاہور کے جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نذیر سمیت دیگر بھی انکے ہمراہ تھے ۔ شہباز شریف نے کہا کہ 9مئی کے جو آلہ کار ہیں ان کی سہولت کاری ملک دشمنی ہے، جب اس ملک کے خلاف سازش کی گئی، غداری کی گئی اور فوج میں تختہ پلٹنے کی بھیانک کوشش کی گئی جس کی پورے پاکستان نے مذمت کی اور اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے، یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ جمہوریت غداری کو برداشت نہیں کرتی۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ نواز شریف سے لے کر پورے شریف خاندان نے جو صعوبتیں جھیلیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں، میاں نواز شریف کو ہتھکڑیاں لگوائی گئیں ، جیلیں کاٹیں، انہوں نے خود کو قانون کے سامنے پیش کر دیا ہے، نواز شریف کی مخالفت اور دشمنی میں بلوچستان کی حکومت بھی گرا دی گئی۔انہوں نے کہا کہ پہلی بات، ہم نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا اور انصاف کی طلب کے لیے ہم بلا امتیاز عدالتوں میں حاضری کو اپنا فرض سمجھتے ہیں اور یہ سب ہمارے لیے لائق احترام ہے، دوسری بات یہ ہے کہ نواز شریف سے لے کر پورے شریف خاندان اور مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں نے جو مشکلات اور سختیاں جھیلی ہیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا ہک نواز شریف نے جیلیں کاٹیں، ہتھکڑیاں لگوائیں، اپنی بیٹی کو اپنے سامنے گرفتار ہوتے دیکھا ایک دفعہ نہیں بلکہ دو مرتبہ،جلا وطنی اختیار کی، اور آج وہ وطن واپس آئے ہیں تو انہوں نے اپنے آپ کو قانون کے سامنے پیش کردیا ہے۔میاں شہباز شریف نے کہا کہ تیسری بات یہ ہے کہ صرف نواز شریف کی حکومتیں گرائی گئیں کسی اور کی نہیں، نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا گیا 2017میں، صرف وفاق نہیں بلکہ بلوچستان کی حکومت جو اچھا بھلا کام کر رہی تھی اس کا بھی تختہ الٹ دیا گیا، صرف اور صرف میاں صاحب کی دشمنی اور مخالفت میں تاکہ ترقی اور خوشحالی کے سفر کا خاتمہ کیا جاسکے اور پھر آپ نے دیکھا کہ 6 سال بعد آج پاکستان کہاں کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف چاہتے تو خیبر پختونخوا میں 2013کے الیکشن کے بعد دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر اپنی ایک مخلوط حکومت بنا سکتے تھے لیکن انہوں نے نا صرف اس سے انکار کیا بلکہ کہا کہ جمہوریت کا تقاضہ یہ ہے کہ جو اکیلی سب سے بڑی جماعت ہے اس کو موقع ملنا چاہیے اور وہ ہی اپنی صلاحیت کے حساب سے عوام کی خدمت کرے مگر کسی کو علم نہیں تھا کہ اس وقت جو تحریک انصاف تھی وہ تحریک تباہی بن جائے گی اور پورے پاکستان میں تباہی پھیلا دے گی۔شہباز شریف نے کہا کہ آج وقت آگیا ہے کہ ہم نواز شریف کی قیادت میں میدان میں اتریں اور جو پاکستان کے بچے اور بچیاں ہیں ان کو تکنیکی تعلیم، لیپ ٹاپ دیں، ان نوجوانوں بچے اور بچیوں کو عزت و وقار کے ساتھ پاکستان کے اندر اور باہر نوکریاں فراہم کرنے کے لیے نواز شریف اپنے انتخابی مہم کا اعلان کریں گے اور اس کے ساتھ معاشرے میں تمام دوسرے طبقات کے لیے انشا اللہ ہم اپنا منشور لے کر آئیں گے جو کہ دوبارہ اسی سفر کی نشاندہی کرے گا جس کا خاتمہ نواز شریف کے دور میں کیا گیا، بدقسمتی سے جو 5 سال ضائع ہوگئے ہیں اس کا دوبارہ آغاز ہوگا۔الیکشن کے بروقت ہونے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ الیکشن وقت پر ہی ہوں گے، یہ قانون کی منشا ہے اور جمہوری تقاضوں کی بھی منشا ہے۔لیول پلیئنگ فیلڈ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آج میں عدالت میں پیش ہوا، نواز شریف اسلام آباد کی عدالت میں حاضر ہوئے ، انصاف کی تلاش میں اس سے زیادہ لیول پلیئنگ فیلڈ کیا ہوسکتی ہے؟۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جب بنی گالہ کے غیر قانونی طور میں بنائے گئے گھر کو ثاقب نثار نے اجازت دے دی تو وہ لیول پینئگ فیلڈ دی تھی؟ اس سے ملحقہ کچی آبادیوں کو مسمار کیا گیا، غریبوں اور جھگیوں میں رہنے والے کے گھروں کو یہ کہہ کر مسمار کردیا گیا کہ یہ غیر قانونی ہیں اور 300کنال پر محیط ایک عالی شان محل کو حلال کہا گیا تو یہ ہے لیول پینئگ فیلڈ؟ لیول پینئگ فیلڈ تو یہ ہے کہ میں آج یہاں پیش ہو رہا ہوں، نواز شریف اسلام آباد پیش ہو رہے ہیں۔اپنی گفتگو کے آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا گیا اقامے کے اوپر ، پانامہ کا نام و نشان نہیں ملا، وہ سیاہ دن تھا پاکستان کی تاریخ میں۔عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی مرضی کی لفظیات نکالی اور اس کے اوپر نواز شریف کے خلاف فیصلہ دے دیا۔