آئی جی سندھ معتبر عہدہ ہے، وہ اغوا نہیں ہوئے تھے،مرتضی وہاب

0
317

کراچی(این این آئی)ترجمان سندھ حکومت اور مشیر قانون و ماحولیات بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہاہے کہ آئی جی سندھ معتبر عہدہ ہے، جس پر ہمیں بات کرتے ہوئے احتیاط کرنا ہوگی، وہ اغوا نہیں ہوئے تھے، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر سے متعلق 5 وزرا کی رپورٹ کابینہ کو پیش کی گئی، مزارِ قائد کی حرمت کا واضح قانون موجود ہے، رکنِ سندھ اسمبلی راجہ اظہر نے پولیس کے پاس درخواست درج کرائی ہے، پولیس نے درخواست کو مجسٹریٹ کے پاس جمع ہونے کا قانونی نکتہ اٹھایا، دوسری درخواست داخل کرانے کی کوشش کی گئی، اسے بھی پولیس نے واپس کر دیا، اس صورتِ حال پر تحریکِ انصاف کے ارکان کا رویہ نامناسب تھا۔ سندھ اسمبلی بلڈنگ کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مزار قائد کی حرمت کا قانون موجود ہے اور قانون میں واضح طریقہ کار ہے۔18 اکتوبر کے دن پی ٹی آئی کے وزرا اور وفاقی حکومت نے سیاسی مقاصد کے لیئے اسے استعمال کرنے کی کوشش کی اور رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر نے پولیس کے پاس درخواست درج کرائی اور پولیس نے درخواست کو مجسٹریٹ کے پاس جمع ہونے کا قانونی نکتہ اٹھایا۔ ایک بار پھر دوسری درخواست داخل کرانے کی کوشش کی جسے بھی پولیس نے واپس کردیا۔ اس صورتحال پر تحریک انصاف کے ارکان کا رویہ نامناسب تھا۔ اس صورتحال میں ایک شخص کو کھڑا کیا گیا جس میں جان سے مارنے کی دھمکی کا اضافہ کیا گیا۔ پولیس نے دھمکی کی درخواست پر مقدمہ درج کیا اور گرفتاری عمل میں آئی پھر عدالت نے کیپٹن صفدر کو 24 گھنٹے میں آزاد کیا گیا۔ پولیس نے مو قف اختیار کیا کہ رپورٹ جھوٹی ہے اس کا اختیار عدالت کو ہے۔ عدالت نے اسے سی کلاس کردیا پھر کمیٹی نے مدعی کی لوکیشن ٹریس کی تو وہ شام چار سے پانچ بجے مزار قائد نہیں بقائی یونیورسٹی کی سامنے آئی۔ انہوں نے کہا کہ مدعی تحریک انصاف کا کارکن اور ایم پی اے کا قرابت دار ہے۔ تحقیقات میں وڈیو دیکھی گئیں اور پولیس کے ساتھ رویہ بھی دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اہم وفاقی وزیر خود تھانے میں موجود تھے اور پولیس پر دباو ڈالا گیا۔ آئی جی اور چیف سیکریٹری کے خلاف دھمکی آمیز رویہ بھی ثابت ہوا ہے اس پر کابینہ نے اتفاق رائے سے سرکاری معاملات میں مداخلت نہ کرنے پر اتفاق کیا کہ قانونی ادارے قانون کے تحت کاروائی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے مزارِ قائد کو استعمال کیا اور کابینہ نے وفاقی حکومت کو خط ارسال کرنے کا فیصلہ کیا اور ارکان کی مداخلت آمیز کوشش سے واقف کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس نے رپورٹ درج کرلی مگر آئی او کو چیزوں کو دیکھنے کی ضرورت تھی مگر آئی او نے ان چیزوں کو انڈر پریشر ہوتے خیال نہیں کیا اورایف آئی آر میں نامزد شخص پر پولیس کی جانب سے چادر چار دیواری کے تحفظ کی ذمہ داری ہے۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ پاک فوج کے افسران کے حوالے سے خبریں نشر ہوئی تھیں اس پر چیئرمین بلاول بھٹو نے آرمی چیف سے اس معاملے پر درخواست کی اورپاک آرمی کے سربراہ نے کورٹ آف آرمی کی انکوائری طلب کی اور رپورٹ پر عمل درآمد کیا گیا کہ کسی کو اختیار نہیں کہ کسی آفیشل ایکٹ میں مداخلت کریں اور اگلے ہفتے وفاقی حکومت کو خط لکھا اور رپورٹ پبلک کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کی وفاقی کابینہ سے آئینی اور قانونی طور پر سراسر غلط ہے یہ معاملہ سی سی آئی میں متنازع ہے اور 2010 سے وزیر اعلی سندھ یہ مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے اس مردم شماری پر اعتراض ہے دیگر پارٹیاں بھی اس پر سراپا احتجاج ہیں۔ وفاقی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا تھا۔ وفاقی وزیر اعظم سواتی اس وقت بھی اس فیصلے کا حصہ تھے۔ سی سی آئی فیصلے کے تحت پہلے ایک اور بعد میں 5 فیصد آڈٹ کا فیصلہ کیا گیا اور اگست 2018 میں بھی اس معاملہ پر سندھ کا مقدمہ رکھا تھا۔ ایک بار پھر اسے موخر کیا گیا اور آخری سی سی آئی اجلاس نومبر میں ہوا تھا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیئے علی زیدی کی سربراہی میں حکومت نے وفاقی وزیر کی زیر صدارت کمیٹی قائم کی اور سی سی آئی کے اختیار کو ایک وفاقی وزیر کے اختیار میں دیا گیا جس پر وزیر اعلی سندھ نے اعتراض کیا جس کی تائید اسد عمر کرچکے ہیں۔ سی سی آئی نے کمیٹی کو صوبوں سے رابطہ کرنے کی ہدایات جاری کی اورکمیٹی نے ایک بار بھی وزیر اعلی سندھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ کمیٹی نے آئینی اور قانونی تقاضے بھی پورے نہیں کئے۔