نیویارک (این این آئی)اس وقت ہر 29 ویں انسان کو امداد یا تحفظ کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں ضرورت مند افراد کی تعداد میں مزید 40 ملین کا اضافہ متوقع ہے۔ زیادہ تر افراد افغانستان، ایتھوپیا، یمن اور میانمار میں ہیں۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اوچھا (اوسی ایچ اے) کی ایک تازہ ترین رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اقوام متحدہ سال 2022 ء میں 274 ملین انسانوں کی ضروریات پوری کرنے کی تیاری کر رہا ہے جبکہ رواں سال 250 ملین افراد کی امداد کی جا چْکی ہے۔ مزید برآں یہ کہ آئندہ برس دنیا بھر میں تقریباً مزید چالیس ملین افراد کو امداد کی ضرورت ہو گی۔مستقبل کی ضروریات سے متعلق سالانہ جائزے میں 17 فیصد اضافے کے امکانات کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ نے عطیہ دہندگان سے اپیل کی کہ وہ 183 ملین ضرورت مند انسانوں کی مدد کے لیے 41 بلین ڈالر کی فراہمی ممکن بنائیں۔بتایا گیا ہے کہ امداد اور تحفظ کی سب سے زیادہ ضرورت افغانستان، ایتھوپیا، میانمار، شام اور یمن کے باشندوں کو ہو گی۔ یہ تمام وہ ممالک ہیں جو ایک عرصے سے سیاسی عدم استحکام، جنگ اور سکیورٹی کی ابتر صورتحال کے سبب بھرک، افلاس اور اپنے گھروں سے بے دخلی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی آب و ہوا کا بحران ان کمزور انسانوں کو اور زیادہ تباہ حال کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ کورونا کی وبا نے پوری دنیا میں بھونچال مچا رکھا ہے۔ اقتصادی زبوں حالی کے علاوہ دنیا کے بہت سے خطوں میں طویل مسلح تنازعات میں گہرے ممالک کے باشندے غربت کی نچلی ترین سطح پر پہنچ چْکے ہیں۔اوچھا کے سربراہ مارٹن گریفتھس اس صورتحال کے پس منظر میں کہتے ہیں، وبا کا خاتمہ ہنوز نہیں ہوا۔ وبائی بیماری ختم نہیں ہوئی ہے کیونکہ غریب ممالک ویکسین سے محروم ہیں۔ گلوبل ہیومینیٹیرین اوور ویو کے جائزے کے مطابق سن 2021 کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے کی جانے والی چندے یا عطیے کی اپیل کا آدھا حصہ بھی اکٹھا نہیں ہو سکا۔ مارٹن گریفتھس کا کہنا تھا، اس سال ہم جتنے لوگوں تک مدد فراہم کرنا چاہتے تھے ان کے 70 فیصد تک بھی نہ پہنچ سکے۔ ہمیں یہ ادراک بھی ہے کہ ہم کتنی بھی محنت کر لیں ہم امداد کے لیے مطلوبہ 41 بلین ڈالر کی رقم تک نہیں پہنچ پائیں گے۔اس جائزہ رپورٹ میں 30 ممالک کے بارے میں مخصوص منصوبوں کی بات کی گئی ہے۔ ان تیس میں سے 15 کا تعلق براعظم افریقہ سے ہے، بقیہ کا مشرق وسطی? اور لاطینی امریکا سے۔مارٹن گریفتھس نے اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگری کلچر ادارے کے تخیمینوں کے حوالے سے کہا کہ اس وقت دنیا کے درجنوں ممالک کے قریب 45 ملین افراد قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔جنوبی سوڈان میں پایا جانے والا قحط نصف ملین انسانوں کو متاثر کر رہا ہے۔ اس قحط کا سدباب ضروری ہے۔ تاہم ایک مثبت پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے ہو مارٹن گریفتھس نے کہا ہم یمن میں دس ملین انسانوں کو صحت کی دیکھ بھال فراہم کر چْکے ہیں، ہم نے میانمار میں 10 ملین افراد کو ویکسین لگوائیں
مقبول خبریں
گوادر بندرگاہ جلد از جلد فعال کرنے کیلئے جامع منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد(این این آئی) وفاقی حکومت نے گوادر بندرگاہ کو جلد از جلد فعال کرنے کیلئے جامع منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ کیاہے۔وزارت خارجہ...
بلوچستان میں دہشت گردی آپریشن سندور کا تسلسل ہے‘ طلال چودھری
اسلام آباد(این این آئی) وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی آپریشن سندور کا تسلسل ہے۔وزیر مملکت...
ایف آئی اے کا منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے حوالے سے اہم اقدام
اسلام آباد(این این آئی)وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)کے ڈائریکٹر جنرل رفعت مختار نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے حوالے سے تاریخی اقدام کرتے...
ڈی جی آئی ایس پی آر کا مظفرآباد کا دورہ، کشمیری عوام کا پاک...
مظفرآباد(این این آئی)ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کا اہم...
وزیر داخلہ کا دورہ بحرین،انسداد دہشتگردی و انسانی اسمگلنگ پر مشترکہ لائحہ عمل پر...
منامہ (این این آئی)وفاقی وزیر داخلہ کے دورہ بحرین کے دوران دونوں ملکوں میں انسداد دہشت گردی و انسانی اسمگلنگ پر مشترکہ لائحہ عمل...