ایران کیساتھ جوہرہ معاہدہ مکمل ناکام ہوگا،جان بولٹن

0
76

واشنگٹن (این این آئی)وائٹ ہائوس کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے انکشاف کیا ہے کہ ایف بی آئی نے انہیں 2020 کے اوائل میں مجھے قتل کرنے کی کوشش کی اطلاع دی تھی۔عرب ٹی وی سے بات چیت میں بولٹن نے کہا کہ ایران کی جانب سے کیے گئے قاتلانہ حملے میں سابق اور موجودہ امریکی حکام کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت کے دہشت گردانہ طریقوں کے ثبوت موجود ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی انتظامیہ کی ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی طرف واپسی غلط ہو گی۔بولٹن کا کہنا تھا کہ تہران کے ساتھ جوہری معاہدہ مکمل طور پر ناکام ہو گا۔انہوں نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ کانگریس کے ارکان کی اکثریت نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی طرف واپسی سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والا جوہری معاہدہ بہت برا ہے۔جان بولٹن نے مزید کہا کہ ایران اور دہشت گردی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے ایران کو روکنے کی خواہش ظاہر نہیں کی اور یہ کہ امریکا کے سخت ردعمل کی عدم موجودگی تہران کو اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں پر قائم رہنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران خطے کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنا اشتعال انگیز رویہ جاری رکھے ہوئے ہے۔سابق امریکی عہدیدار نے کہا کہ ہمیں اور ہمارے شراکت داروں کو جو خطرات درپیش ہیں وہ تہران کی طرف سے آتے ہیں۔ ایران کی دھمکیاں بدستور موجود ہیں اور اس کے رویے کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔