رین من بی میں لین دین سے چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی کی حوصلہ افزائی ہو گی، چینی قونصل جنرل

0
99

کراچی (این این آئی)کراچی میں تعینات چینی قونصل جنرل لی بیجیان نے کہا ہے کہ رین من بی میں لین دین سے چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی کی حوصلہ افزائی اور دیگر زرمبادلہ کرنسیوں پر دباؤ کم ہو گا۔گوادر پرو کے مطابق چینی قونصل جنرل لی بیجیان نے بی او آئی کے ایڈیشنل سیکرٹری خاشیح الرحمان اور پروجیکٹ ڈائریکٹر، چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور انڈسٹریل کوآپریشن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ (CPECـICDP) عاصم ایوب سے ملاقات کے دوران بی او آئی کی جانب سے کراچی، لاہور اور پشاورمیں منعقدہ بی ٹو بی سی پیک سرمایہ کاری کانفرنسوں کو سراہا اور بی او آئی کو دو طرفہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے دورہ چین کی دعوت دی۔ گوادر پرو کے مطابق لی بیجیان نے بزنس ٹو بزنس اور عوام سے عوام کے تبادلے کو بڑھانے کے لیے بی او آئی کو چین میں وفود کا بندوبست کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کراچی میں چینی قونصلیٹ جنرل ویزوں کے اجراء اور چین میں روڈ شوز کے انعقاد کے لیے ہر طرح کی سہولت فراہم کرے گا۔ انہوں نے کراچی میں چینی اور پاکستانی ایسوسی ایشنز سے ملاقات اور دونوں ممالک کے نجی شعبے کے درمیان خلیج کو ختم کرنے پر بی او آئی کو بھی سراہا۔گوادر پرو کے مطابق لی بیجیان نے کہا کہ پاکستان بزنس اینڈ انوسٹمنٹ فورم جیسے پلیٹ فارم کے ذریعے چینی کمپنیوں کے مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی اور چینی کاروباری اداروں کے درمیان تعاون کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ قونصل جنرل نے بی او آئی کے اعزازی انویسٹمنٹ قونصلر یمان لی کی تعریف کی کہ وہ 163 پاکستانی تاجروں کیلئے چین کے شہر ای وو کے لیے ای وو حکومت کے تعاون سے ایک چارٹر طیارے کا بندوبست کر رہے ہیں۔گوادر پرو کے مطابق خاشیح الرحمان نے قونصل جنرل کو چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے ساتھ چین کی صوبائی اور مقامی حکومتوں کو ہر سطح پر صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے بی او آئی کے وعدوں سے آگاہ کیا۔ رحمان نے کہا کہ حکومت پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر پاکستان میں ایکجی ٹو جی خصوصی اقتصادی زوون بنانے کی تجویز دی ہے، تاکہ چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی کو آسان بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی او آئی نے ورک ویزا اور وزٹ ویزا کے عمل کو آسان بنایا ہے۔ اور چینی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو ورک ویزا کے لیے درخواست دینے کی ترغیب دی۔ گوادر پرو کے مطابق عاصم ایوب نے لی بیجیان کو بتایا کہ بی او آئی نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے تیار 30 چینی منصوبوں کی فہرست مقامی چیمبرز کو پیش کی ہے۔ اسے سی جی نے اس کو سراہا اور انہوں نے چینی کمپنیوں کو تعاون کے مزید مواقع تلاش کرنے کی پیشکش کی۔ اس طرح بی او آئی پاکستان میں چینی مشنز اور پی سی بی آئی ایف کے تعاون سے دونوں اطراف کی کمپنیوں کے درمیان بامعنی میچ میکنگ اور مشترکہ منصوبے شروع ہو سکتے ہیں