سینٹ کی قرارداد میں آئین شکن آمروں اور ججوں کی مذمت نہ کرنا افسوسناک ہے، سینیٹر عرفان صدیقی

0
498

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاہے کہ گولڈن جوبلی تقریبات کے اختتام پر سینٹ میں منظور کردہ متفقہ قرارداد میں آئین اور عوام کے حقوق کے غارت گر آمروں اور اْن کا ساتھ دینے والے ججوں کی مذمت شامل نہ کرنا افسوسناک ہے۔ منظور کردہ قرارداد اْن جذبات واحساسات کی مکمل ترجمانی نہیں کرتی جن کا ارکان کی بھاری اکثریت نے سینٹ کے ایوان میں اظہار کیاتھا۔ جمعہ کو پارلیمنٹ ہا?س میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ ہمیں رات کو بھیجی جانے والی قرارداد پرانے اور موجودہ سینیٹرز کی اکثریت کے خیالات واحساسات اور سوچ کی مکمل ترجمانی نہیں کرتی تھی لہذا میں نے سیکریٹری سینٹ کو جمعہ کی صبح ایک ترمیم جمع کرائی۔ ترمیم یہ تھی کہ ”یہ معزز ایوان اْن تمام فوجی آمروں کی مذمت کرتا ہے جنہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین توڑا، غارت کیا اور اْسے معطل کیا اور اِس طرح پاکستانی عوام کے بنیادی حقوق پہ ڈاکہ ڈالا۔ ایوان اْن نام نہاد ججوں کی بھی مذمت کرتا ہے جنہوں نے اپنے حلف سے انحراف کرتے ہوئے نہ صرف آمروں کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق کی بلکہ انہیں اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے آئین سے کھیلنے کی اجازت بھی دی ۔” سینیٹر عرفان صدیقی نے بتایا کہ فرحت اللہ بابر، رخسانہ زبیری، رضاربانی، اعتزاز احسن سمیت بہت سے دوستوں نے اِن ہی خیالات کا اظہار کیا تھا۔ اْن سب کی ترجمانی کرتے ہوئے میں نے یہ ترمیم پیش کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ میں نے چئیرمین سینٹ سے ایوان میں گزارش کی کہ ترمیم آپ تک پہنچ چکی ہے ، اسے ایوان میں پیش کرنے کی اجازت دی جائے لیکن انہوں نے اجازت دی نہ بات کرنے کا موقع دیا۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ ترمیم قرارداد میں شامل نہ کرنے کی وجہ کیا ہے؟ ہم کیوں خوف زدہ ہیں؟ اِن حقائق کو سامنے لانے سے کیوں شرماتے ہیں؟ گزرے ہوئے وقت کے بارے میں اگر آج بھی ہم بات نہیں کرسکتے، کوئی اشارہ یا تنقید نہیں کرسکتے، تو اتنے بڑے ہا?س میں ہمارے بیٹھنے کا کیا فائدہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ سینٹ کے ارکان کی بڑی اکثریت نے کہا تھاکہ ‘ہال آف فیم’ کے ساتھ ‘ہال آف شیم’ بھی بنانا چاہیے ۔ ایک دیوار گریہ بھی بنانی چاہیے جہاں اْن شرمناک کرداروں کے نام اور تصویریں کندہ ہوں جواپنے مقاصد، نوکریوں اور کرّوفرکے لئے آئین کے ساتھ کھیلتے رہے۔ میڈیا کے ذریعے اپنی اس ترمیم کو تاریخ کا حصہ بنارہا ہوں۔ انہوں نے سہ روزہ تقریبات کے دوران سینٹ اور اس کے مقاصد سے قوم کوآگاہ کرنے پر میڈیا کو خراج تحسین پیش کیا۔