چین، ”ٹریڈ ان”نہ صرف موجودہ بلکہ طویل عرصے کے لئے بھی فائدہ مند ہے، ر پورٹ

0
81

بیجنگ (این این آئی) چین کے اعلیٰ ترین رہنما کی صدارت میں مرکزی کمیشن برائے مالیاتی امور کے چوتھے اجلاس میں ”بڑے پیمانے پر سازوسامان کی تجدید”اور ”کنزیومر گڈز ٹریڈ ان” کلیدی الفاظ بن گئے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بڑے پیمانے پر سازوسامان کی تجدید اور کنزیومر گڈز ٹریڈ ان کے نئے دور کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرنا ضروری ہے۔ یہ گزشتہ سال دسمبر میں منعقدہ سینٹرل اکنامک ورک کانفرنس میں پیش کردہ بڑے پیمانے پر سازوسامان کی تجدید اور صارفی اشیاء کی ٹریڈ ان کو فروغ دینے کی ضروریات کی مخصوص تعیناتی اور نفاذ ہے۔گزشتہ سال سے، چین کی معیشت نے مستحکم بحالی حاصل کی ہے، اور کھپت اقتصادی ترقی کی اہم محرک قوت بن گئی ہے.چین کے قومی محکمہ شماریات کے مطابق 2023 میں صارفین کی اشیا کی مجموعی خوردہ فروخت 47 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گئی جو پچھلے سال کے مقابلے میں 7.2 فیصد کا اضافہ ہے۔ 2023 ء میں حتمی کھپت کے اخراجات نے معاشی ترقی میں 82.5 فیصد کا حصہ ڈالا ، جس سے جی ڈی پی کی نمو میں 4.3 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور بین الاقوامی تجارت میں کمی کے باعث بیرونی طلب میں کمی سے پیدا ہونے والے اثرات کو دور کیا گیا۔ چین کی کھپت پر مبنی اندورنی طلب کی ترقی کی صورتحال بنیادی طور پر اپنی شکل اختیار کر چکی ہے ، اور معاشی ترقی کو فروغ دینے میں کھپت کے بنیادی کردار کو مزید بڑھایا گیا ہے۔فی الحال چین کی معیشت تیز رفتار ترقی سے اعلی معیار کی ترقی کی طرف منتقل ہورہی ہے ، اور رہائشیوں کی کھپت کو اپ گریڈ کرنے کے لئے زبردست امکانات موجود ہیں۔ کھپت کی بحالی کے رجحان کو مزید مستحکم کرنا چین کے معاشی استحکام اور ترقی کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔موجودہ اجلاس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ مختلف پیداواری اور خدمات کے سازو سامان کی تجدید اور تکنیکی تبدیلی کو فروغ دینا، آٹوموبائل اور گھریلو برقی سازوسامان جیسے روایتی صارفی اشیائ کی ٹریڈ ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور پائیدار صارفین کی اشیاء کی تجارت کو فروغ دینا ضروری ہے۔ صارفین کے سامان کی ٹرید ان کے لئے، مرکزی حکومت اور مقامی حکومتوں کے مابین مشترکہ عمل درآمد کرتے ہوئے پورے چین میں تمام پہلوئوں کو مربوط کرنا ہوگا تاکہ صارفین کو زیادہ فوائد پہنچائے جائیں،یہ اقدامات اور بیانات لوگوں کو کچھ سالوں پہلے چین کی جانب سے اختیار کردہ ”دیہی علاقوں تک گھریلو برقی سازو سامان کی رسائی”نامی پالیسی کی یاد دلاتے ہیں۔ اْس وقت ، امریکی مالیاتی بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والی عالمی معاشی کساد کے پیش نظر چین نے 2009 میں ”دیہی علاقوں تک گھریلو برقی سازو سامان کی رسائی”نامی پالیسی کو مکمل طور پر نافذ کیا تھا اور قابل ذکر نتائج حاصل کیے تھے۔ 2010 میں چین کی وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق، پالیسی کے نفاذ کے دوران مجموعی طور پر 32.224 ملین نئے گھریلو برقی سازو سامان فروخت کیے گئے، جس میں 121.11 بلین یوآن اور 33.446 ملین پرانے گھریلو برقی سازو سامان کی ری سائیکلنگ کی گئی۔ اس پالیسی نے اْس وقت چین کی اندورنی کھپت کو بڑھایا ، جس سے چین میں ٹاؤن شپ کے رہائشیوں کی اکثریت کو کھپت کی اپ گریڈ شن کا فائدہ پہنچا۔موجودہ اجلاس میں تجویز کردہ ”بڑے پیمانے پر سازوسامان کی تجدید”اور ”صارفی اشیاء کی ٹریڈ ان” نہ صرف گزشتہ سالوں میں ”دیہی علاقوں تک گھریلو برقی سازو سامان کی رسائی”کی پالیسی کا ایک توسیع شدہ ورژن ہے بلکہ اس کی زیادہ اہمیت کھپت اور اندرونی طلب کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بناتے ہوئے مصنوعات اور صنعتوں کی دوہری اپ گریڈیشن حاصل کرنے کے لئے مارکیٹ سرمایہ کاری کی فعال طور پر رہنمائی کرنا بھی ہے۔ اس وقت، چینی مارکیٹ میں سبز، ڈیجیٹل اور اسمارٹ مصنوعات اور سازوسامان کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے، اور بڑے پیمانے پر سازوسامان کی تجدید اور صارفی اشیاء کی”ٹریڈ ان”کا یہ دور نہ صرف معاشی ترقی اور مارکیٹ کے قوانین کی منطق کے مطابق ہے، بلکہ صنعتی تبدیلی اور اپ گریڈنگ سے بھی وابستہ ہے۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جدید پیداواری صلاحیت کے تناسب میں مسلسل اضافے، فضلے کے وسائل کی ری سائیکلنگ اور قومی اقتصادی گردش کے معیار اور سطح میں خاطر خواہ بہتری کو فروغ دینے کے لئے پالیسی میں ایک اچھا امتزاج ادا کرنے کی ضرورت ہے،ترقی کی حوصلہ افزائی، پسماندگی کا خاتمہ ، معیار ات کی رہنمائی اور منظم بہتری پر زور دینا ضروری ہے