مزاحیہ اداکارمنورظریف کو دنیا سے رخصت ہوئے 45 برس بیت گئے

0
431

لاہور(این این آئی) شہنشاہ ظرافت کا خطاب پانے والے نامور مزاحیہ اداکار منور ظریف کو دنیا سے رخصت ہوئے 45برس بیت گئے۔منور ظریف نے اپنے 15 سالہ فلمی کیریئر میں 321 فلموں میں کام کیا اور اپنی جاندار اور شاندار مزاحیہ اداکاری سے لاکھوں پرستاروں کے دلوں پر خوب راج کیا۔ اپنی بے ساختہ اداکاری سے شائقین کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے منور ظریف25 دسمبر1940 کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ چار بھائی تھے ان کا نمبر دوسرا تھا۔منور ظریف سے بڑے بھائی ظریف نے قیام پاکستان کے بعد کی فلموں میں ظریف کے نام سے اداکاری شروع کی۔ منور ظریف سے چھوٹے دو بھائی مجید ظریف اور رشید ظریف نے بھی فلموں میں کام کیا۔منور ظریف کے والد ایک سرکاری آفیسر تھے، اپنے بھائی ظریف کی بھری جوانی میں وفات کے بعد محمد منور نے فلمی دنیا میں قدم رکھا اور منور ظریف کا فلمی نام اختیار کیا۔ان کی شادی تحصیل کامونکی میں رشتہ داروں کے ہاں خاندانی رضامندی سے ہوئی۔فنی کیرئیر کا آغاز تو 1961میں فلم ‘ڈنڈیاں’ سے کیا تاہم پہلی سپر ہٹ فلم ‘ہتھ جوڑی’ تھی جو 1964ء کو ریلیز ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے پلٹ کر نہ دیکھا اور اپنی ہر فلم میں اپنی جگتوں اور بے ساختہ فقروں سے لبریز اداکاری کی وجہ سے پنجابی فلموں کے سب سے بڑے مزاحیہ اداکار کے طور پر تسلیم کئے جانے لگے۔منور ظریف جب بھی پردہ اسکرین پرنمودار ہوتے، فلم بین ان کی اداکاری پرلوٹ پوٹ ہوجاتے، ان کی ہر نئی آنے والی فلم میں لوگوں کے لیے قہقہوں کا وافر مقدار میں سامان ہوتا تھا۔ پرستاروں نے انہیں شہنشاہ ظرافت کا خطاب دیا۔منور ظریف 29 اپریل 1976ء کو دنیا سے رخصت ہو گئے، وہ لاہور میں بی بی پاک کے قبرستان میں سپرد خاک ہیں مگر ان کی جاندار مزاحیہ اداکاری آج بھی انہیں مداحوں کے دلوں میں زندہ رکھے ہوئے ہے۔