نوشہرہ،مدرسہ حقانیہ میں خودکش دھماکہ میں مولانا حامد الحق سمیت 5 افراد شہید، 20 زخمی

0
28

نوشہرہ /پشاور/اسلام آباد (این این آئی)خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ اور مدرسے کے نائب مہتمم مولانا حامد الحق سمیت 5 افراد شہید اور 20 زخمی ہوگئے، زخمیوں میں بعض کی حالت نازک ہے جس کے باعث شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے جبکہ صدر مملکت آصف علی زر داری اور زیر اعظم شہبازشریف نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گناہ نمازیوں کو نشانہ بنانا مذموم اور گھناؤنا عمل ہے، دہشتگرد ملک و قوم اور اِنسانیت کے دشمن ہیں۔جمعہ کو ریسکیو 1122 کے مطابق حقانیہ مدرسہ اکوڑہ خٹک میں دھماکے کی اطلاع ریسکیو کنٹرول روم کو موصول ہوئی، اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیمیں 6 ایمبولینس بمعہ میڈیکل ٹیموں اور فائر ٹیم موقع پر پہنچی۔سینٹرل پولیس آفس کے مطابق مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں دھماکا نماز جمعہ کے بعد ہوا ہے۔آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ حملہ ٹارگیٹڈ تھا جس میں 3 سے 4 افراد شہید ہوئے، حملے میں مولانا حامد الحق نشانہ تھے۔آئی جی خیبر پختون خوا ذوالفقار حمید کے مطابق جامعہ حقانیہ کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے بعد مبینہ خود کش حملہ کیا گیا۔آئی جی خیبر پختون خوا نے بتایا کہ مولانا حامد الحق حقانی ہی حملے کا ہدف تھے۔انہوں نے بتایا ہے کہ مسجد میں نمازِ جمعہ کے وقت 25 پولیس اہلکار تعینات تھے۔آئی جی کے پی نے بتایا کہ مولانا حامد الحق کی سیکیورٹی پر 6 پولیس اہلکار تعینات تھے۔خیبر پختون خوا کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور آئی جی پولیس ذوالفقار حمیدنے دھماکے میں مولانا حامد الحق کے شہید ہونے کی تصدیق کی ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق قاضی میڈیکل ہسپتال نوشہرہ میں 5 لاشیں اور 20 زخمی لائے گئے۔ دریں اثناء مولانا حامد الحق کے بیٹے ثانی حقانی نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے کے وقت سیکڑوں افراد مسجد میں موجود تھے اور دھماکے میں 4 سے 5 افراد کے جاں بحق ہوئے ہیں اور درجنوں زخمی ہوئے۔دھماکے پولیس کے مطابق دھماکا جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد کے مرکزی ہال میں ہوا۔سکیورٹی حکام کے مطابق خودکش دھماکے کی تحقیقات شروع کردی ہے، جائے وقوع سے فورنزک ٹیموں نے شواہد اکٹھے کرلیے ہیں،دھماکے کے بعد نوشہرہ کے ہسپتالوں کے علاوہ پشاور کے تین بڑے ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان کے مطابق انتظامیہ اور طبی عملے کو زخمیوں کے علاج کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دریں اثناء صدر مملکت آصف علی زرداری نے دارلعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک جامع مسجد میں خودکش دھماکے کی مذمت کی ہے ۔ اپنے بیان میں صدر مملکت نے خود کْش حملے میں نمازیوں کو نشانہ بنانے کے مکروہ فعل کی شدید مذمت کی ۔صدر مملکت نے دہشت گرد حملے میں قیمتی جانی نقصان پر گہرے دْکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ بے گناہ نمازیوں کو نشانہ بنانا مذموم اور گھناؤنا عمل ہے، دہشتگرد ملک و قوم اور اِنسانیت کے دشمن ہیں۔صدر مملکت نے واقعہ میں جاں بحق افراد کیلئے دعائے مغفرت کی ۔صدر مملکت نے دہشت گرد حملے میں جانبحق افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت، صبر جمیل کی دعا ء کی ۔ اپنے بیان میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دارلعلوم حقانیہ ،اکوڑہ خٹک میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں زخمی ہونے والے جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق اور دیگر زخمیوں کی صحت یابی کی دعاء کی ۔ وزیر اعظم نے زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ اس طرح کی بزدلانہ اور مذموم دہشت گردی کی کاروائیاں دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو پست نہیں کر سکتیں ۔وزیراعظم نے کہاکہ ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں ۔وزیراعظم نے دھماکے کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اکوڑہ خٹک دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے نوشہرہ اور پشاور کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایت کردی۔انہوں نے دھماکے کے زخمیوں کو فوری طبی امداد دینے کے لیے عملہ الرٹ رکھنے کا حکم بھی دیا۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی نوشہرہ میں مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں دھماکے پر اظہار مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔اپنے بیان میں فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک دھماکا اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کی سازش ہے، صوبائی حکومت کی نااہلی اور ملی بھگت کا خمیازہ نہ جانے کب تک صوبہ بھگتے گا۔ادھر ترجمان جے یو آئی اسلم غوری نے دھماکے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں دھماکا افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ اب مساجد اور مدارس بھی محفوظ نہیں رہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں نے امن وامان تباہ کردیا ہے، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔انہوںنے کہاکہ جے یو آئی کارکن اور رضا کار ہر قسم کا تعاون کریں، کارکن زخمیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ خون کے عطیات دیں۔