وزیراعظم کی رمضان ریلیف پیکیج ماڈل کو دیگر سرکاری سکیموں میں اپنانے کی ہدایت

0
18

اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان ریلیف پیکیج کیلئے استعمال ہونیوالے ادائیگی کے طریقہ کار کو دیگر سرکاری سکیموں میں بھی اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ رمضان ریلیف پیکیج کے دوران موصول شکایات کو آئندہ لائحہ عمل بناتے ہوئے مدنظر رکھا جائے۔جاری بیان کے مطابق جمعہ کو وزیراعظم کی زیر صدارت پرائم منسٹر رمضان ریلیف پیکیج2025ء کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہو ا جس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ،وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، متعلقہ سرکاری افسران اور رمضان ریلیف پیکیج کے حوالے سے معاون نجی کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں رمضان ریلیف پیکیج2025کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ رمضان ریلیف پیکیج کی 79فیصد رقوم انتہائی شفاف طریقے سے مستحقین کو پہنچائی جا چکی ہیں ،،پیکیج کے حوالے سے کل 1273شکایات موصول ہوئیں جن کے حل کیلئے فوری اقدامات کئے گئے ۔بینک اور دیگر معاون اداروں کی جانب سے اس پیکیج کی آگاہی کے حوالے سے 6.2ملین روبو کالز کی گئیں، 178,700 آئوٹ بانڈ کالز کی گئیں جبکہ 6.1ملین ایس ایم ایس بھیجے گئے۔نیشنل ٹیلی کام کارپوریشن کے کال سینٹر سے اس پیکیج کی جانکاری اور معلومات کے حوالے سے 126,839آئوٹ بانڈ جبکہ 158551ان بانڈ کالز ہوئیں۔شرکاء کو بتایا گیا کہ رمضان پیکیج کے تحت 1.9ملین ڈیجیٹل ادائیگیاں ہوئیں اور 951,191ڈیجیٹل والٹ استعمال ہوئے جو کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے ویژن کے تکمیل کی جانب اہم قدم ہے ۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ 823,653خواتین نے ڈیجیٹل والٹس استعمال کئے جبکہ2,541خصوصی افراد نے ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے رقوم وصل کیں ،الیکٹرانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے رمضان پیکیج کی بھرپور آگاہی مہم چلائی گئی۔وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج کیلئے کام کرنے والی حکومتی ٹیم اور معاون اداروں کی بہترین کاکردگی کو قابل ستائش قرا رہوتے کہا ہے کہ رمضان ریلیف پیکیج کے حوالے سے پہلی بار ڈیجیٹل والٹ متعارف کروایا گیا جس کے ذریعے نہایت شفاف اور سہل طریقہ کار سے رقوم پاکستان بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے مستحقین تک پہنچیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پیکیج کو شفاف بنانے کیلئے سٹیٹ بینک ،بی آئی ایس پی، پی ٹی اے، نادرا اور دیگر معاون اداروں کی کاوشیں لائق تحسین ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ رمضان ریلیف پیکیج کے دوران موصول ہونے والی شکایات کو آئندہ لائحہ عمل بناتے ہوئے مدنظر رکھا جائے، وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس ماڈل کو دیگر حکومتی سکیموں میں اپنایا جائے۔