سیاسی تقسیم کو ختم کرنے کیلئے سب سے بہترین حل منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے،پاکستان کی خواہش ہے بھارت کیساتھ دوستی اور امن ہو،پرامن افغانستان ہمارے خطے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

0
88

اسلام آباد(این این آئی)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہاہے کہ سیاسی تقسیم کو ختم کرنے کیلئے سب سے بہترین حل منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے، قوم کو ہیجانی کیفیت سے نکالنے کیلئے سیاستدان آپس میں بیٹھ کر الیکشن کی تاریخ طے کرلیں،قومی امکان ہے ،آپ سب کی کاوشوں کی بدولت ہم فیٹف کی گرے لسٹ سے نکل جائیں گے ،کرپشن کی بیخ کنی کرنے کے موضوع پر سب متفق ہیں،نیب کو مضبوط کرنا چاہیے،ادارے کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہ کیاجائے،آج کل آڈیو لیکس سامنے آئی اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے، فریقین میں سے کسی ایک کی رضامندی کے بغیر فرد (افراد) کے درمیان نجی گفتگو کو عام کرنا اخلاقی اور قانونی طور پر غلط ہے، پاکستان کی خواہش ہے بھارت کیساتھ دوستی اور امن ہو، خواہش کشمیر میں بھارتی اقدامات کی وجہ سے پروان نہیں چڑھ سکتی،کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیاجانا چاہیے، پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ساتھ کھڑا رہے گا،چین کیساتھ ہمارا بہترین تعاون ہے ، یہ مستقبل میں بھی جاری رہیں گے،پاک امریکہ تعلقات مزید بہتر ہو سکتے ہیں ، تمام ممالک کے ساتھ باہمی وقار اور عزت و احترام پر مبنی تعلقات کے خواہاں ہیں،جی ایس پی پلس کے حوالے سے پاکستان اور یورپی ممالک کے مابین تعاون جاری رہے گا،حرمین شریفین کی سیکورٹی اور تحفظ کیلئے ہم اپنی جانیں بھی دے سکتے ہیں،پرامن افغانستان ہمارے خطے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے،یوکرین روس جنگ کے عالمی سطح پر بھی اثرات ہوئے اور اس کا پاکستان پر بھی اثر پڑا،مید ہے ہم اپنے موجودہ معاشی مسائل پر قابو پالیں گے،ہمیں سول اداروں سمیت ملک میں تعیناتیوں میں میرٹ کو یقینی بنانا ہوگا، دہشت گردی کو شکست دینا ہماری بڑی کامیابی ہے،ہم ڈیموں کی مدد سے سیلابی ریلوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے،پاکستان کا موسمیاتی تبدیلی اور عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے ، مگر پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کے منفی اور مضر اثرات کی بہت بڑی قیمت چکانا پڑ رہی ہے،ہنگامی صورتحال کہیں بھی اور کسی بھی جگہ پیدا ہو سکتی ہے،تمام ادارے مل کر خون عطیہ کرنے کی مہم ، بحران اور قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے نوجوان نسل کو تیار کریں،نجی انشورنس کمپنیوں کے ساتھ حکومت بھی کسانوں کو انشورنس فراہم کرنے پر غور کر سکتی ہے،فصلوں کو پہنچے والے نقصان کا ازالہ کرنا چاہیے،ہمیں زرعی شعبے کو ٹیکنالوجی کی مدد سے ترقی دینا ہوگا،ہم نے کورونا وبا کا کامیابی سے مقابلہ کیا، کامیابی پر آپ بحیثیت ِ قوم خراج ِ تحسین کے مستحق ہیں،پاکستان میں تربیت یافتہ اور ہنر مند انسانی وسائل کا بڑا فقدان ہے ،ہم صرف اپنے انسانی وسائل کی بنیاد پر ہی ترقی کر سکتے ہیں،پاکستان سائبر صلاحیتوں کے اعتبار سے انتہائی سستے اور تیزرفتاری کے ساتھ اپنا مقام بنا سکتا ہے ،ہماری فورسز کے ساتھ ساتھ تمام شعبوں کے اداروں اور افراد کو محنت کرنے کی ضرورت ہے،ہمیں بچوں کی صحت اور انہیں ماں کا دودھ پلانے کے معاملے پر قرآن کے احکامات کو معاشرے میں عام کرنے پر توجہ دینا ہوگی،ہمیں پاکستان میں چھاتی کے کینسر کے حوالے سے بھی آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، عورتوں کا تحفظ یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے ، ہمیں سوشل میڈیا کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے، یہ ایک بہت بڑا فورم ہے جس کو بند نہیں کیا جا سکتا،صحافت کے اندر سچائی کو بھی پروان چڑھنا چاہیے۔ جمعرات کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 5ویں پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سب سے پہلے میں آپ سب کو چوتھا پارلیمانی سال مکمل ہونے اور پانچویں پارلیمانی سال کے آغاز پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ میں آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر بھی اس معزز ایوان کے اراکین اور پوری قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ میں یہاں پر آپ کے سامنے قائد اعظم کا قول پیش کرنا چاہتا ہوں جس میں انہوں نے کہا کہ خدا نے ہمیں ایک عظیم موقع دیا ہے کہ ہم ایک نئی ریاست کے معمار کے طور پر اپنی قابلیت کو ثابت کریں اور کوئی یہ نہ کہ سکے کہ ہم اپنی ذمہ داری کے ساتھ انصاف نہ کر سکے۔انہوںنے کاہکہ میں اس ذمہ داری کا بھی احساس دلانا چاہتا ہوں کہ آزادی کا حصول کتنا مشکل ہے اور جمہوریت کو پروان چڑھتے رہنا چاہیے تاکہ ہمارا ملک مزید مضبوط ہو۔ انہوںنے کہاکہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہوں کہ وہ ہمیں درپیش مسائل سے جلد نجات عطا فرمائے۔ انہوںنے کہاکہ سب سے پہلے میں پاکستان کو اس وقت درپیش سب سے اہم بحران ، یعنی کہ سیلاب پر بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمیں رواں سال مون سون کی شدید بارشوں کی وجہ سے ایک ”سیلاب ِ عظیم ”کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ہمیں شدید نقصان برداشت کرنا پڑا۔ انہوںنے کہاکہ سیلاب کی وجہ سے اب تک کے اندازے کے مطابق تقریباً 15 سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور گھروں ، عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کو بھی نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ زرعی شعبے ، جس سے پاکستان کی ایک بڑی آبادی کا روزگار وابستہ ہے ، کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اس موقع پر میں سب سے پہلے ان تمام اداروں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے سیلاب متاثرین کو بچایا اور انہیں مدد فراہم کی ۔ ان اداروں میں سرفہرست پاکستان کی افواج ہیں جنہوں نے اس بحران میں انتہائی منظم انداز میں لوگوں کی جانیں بچائیں۔ انہوںنے کہاکہ میں دیگر اداروں کا بھی ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جن میں این ڈی ایم اے ، پی ڈی ایم اے ، صوبائی حکومتیں ، این جی اوز اور ہلالِ احمر شامل ہیں ، ان سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں،یہ ادارے سیلاب کے فوراً بعد لوگوں کی امداد کو پہنچے اور اب سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے کاوشیں کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ، میں مخیر حضرات اور نجی اداروں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے بڑے پیمانے پر رقومات جمع کر کے سیلاب زدگان میں تقسیم کیں، یہاں میں بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کا بھی ذکر کروں گا کہ جس کی مدد سے سیلاب متاثرین کو رقوم کی فراہمی ممکن بنائی گئی اور اب تک 24 لاکھ سے زائد سیلاب متاثرہ خاندانوں میں 61 ارب روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی گئی ہے۔ انہوںنے کہاہک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جناب انتونیو گوتریس کا بھی انتہائی مشکور ہوں کہ انہوں نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور سیلاب متاثرین کا احوال جاننے کیلئے ان سے ذاتی طور پر ملاقاتیں بھی کی۔ ہم 30 اگست 2022 ء کی 160 ملین ڈالر کی فلیش اپیل اور پھر اسے816 ملین ڈالر تک بڑھانے کی کال کو سراہتے ہیں اور اس سے سیلاب متاثرین کو ایک مربوط انداز میں امداد پہنچانے میں مدد ملے گی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دورہ بین الاقوامی برادری کی توجہ سیلاب متاثرین کی حالت زار کی جانب مبذول کرانے اور بین الاقوامی امدادی کوششوں کو متحرک کرنے کا ایک موثر ذریعہ ثابت ہوا۔انہوںنے کہاکہ ہم امریکی کانگریس کے وفد کے بھی شکر گزار ہیں کہ وہ ممبر کانگریس شیلا جیکسن کی قیادت میں پاکستان تشریف لایا۔ اس کے علاوہ غیر ملکی معززین اور پاکستان میں مقیم سفراء بھی سیلاب زدہ علاقوں میں گئے جس سے انہیں سیلاب کی تباہ کاریوں کا اندازہ لگانے میں مدد ملی۔ انہوںنے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے اس سیلاب کی شدت اور تباہی ماضی کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔ پاکستان کا موسمیاتی تبدیلی اور عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے ، مگر پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کے منفی اور مضر اثرات کی بہت بڑی قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ میں اس معزز ایوان میں موجود اراکین پارلیمان ، اکابرین اور حکومت سے وابستہ افراد سے گزارش کرتا ہوں کہ میرے خیال میں ایمرجنسی ریلیف اور ریسکیو خدمات کی فراہمی کیلئے بوائے سکاؤٹس اور گرلز گائیڈز کی خدمات امداد اور ریسکیو اور زخمیوں کو ایمرجنسی طبی امداد فراہم کرنے کیلئے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ آپ سب اس بات سے واقف ہیں کہ قیام ِ پاکستان کے بعد بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن اور گرل اسکاؤٹس کا قیام عمل میں لایا گیا، اس کے علاوہ ، پاکستان میں نیشنل کیڈٹ کور کے ذریعے نوجوانوں کو بنیادی فوجی تربیت کے علاوہ ایمرجنسی صورتوں سے نمٹنے کی بھی تربیت دی جاتی تھی۔ انہوںنے کہاکہ آج جب کے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمیں سیلاب کا سامنا ہے اور مستقبل میں بھی ایسی آفات کا خطرہ بڑھ گیا ہے تو ضرورت اس امر کی ہے ہم اپنے نوجوانوں کو بحران اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے علاوہ سی پی آر اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کی تربیت دیں۔