مسلم لیگ (ن) کی 18اراکین پنجاب اسمبلی کی معطلی کیخلاف درخواست کی جلد سماعت کیلئے ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر

0
125

لاہور ( این این آئی) مسلم لیگ (ن) نے سپیکر پنجاب اسمبلی کے الیکشن اور اپنے 18اراکین اسمبلی پر پابندی کے خلاف درخواست کی جلد سماعت کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کر دی ۔ متفرق درخواست لیگی رہنما رانا مشہود احمد سمیت دیگر کی جانب سے دائر کی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواستیں ستائیس اکتوبر کو لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی تھیں ،سولہ نومبر کو دو رکنی بنچ درخواستیں سماعت کے لیے سنگل بنچ جو بھجوائی تھیں۔ اس کیس کی سماعت میں تاخیر سے انصاف کو شکست ہونے کا خدشہ ہے ۔ معزز عدالت سے استدعا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ مرکزی درخواستوں کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے ۔درخواست دائر کرنے کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا ء اللہ تارڑ نے دیگر لیگی رہنمائوں کے ہمراہ ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں 18اراکین کی پنجاب اسمبلی داخلے میں معطلی کا کیس میں جلد سماعت کی درخواست دائر کی ہے ، صوبے کی اسمبلی تحلیل ہونے کا خدشہ موجود ہے ،ایسی صورت میں کسی بھی ایم پی اے کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا ۔ہماری درخواست پر سماعت نہ ہونا حق تلفی ہے،ہم چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے درخواست کریں گے کہ ہمارا کیس سنا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا دو دن سے مشاورتی عمل جاری تھا ۔ تمام اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی گئی ،اسمبلی کی تحلیل کے خدشے کے بعد یہ معاملہ اب اہم نوعیت کا ہے ، پرویز الٰہی اسمبلی کو ایسے چلا رہے ہیں جیسے گجرات کی ضلع کونسل ہے ،ہم یہ چاہتے ہیں کہ نوبت نہ آئے کہ معاملہ سڑکوں پر ہے۔اس موقع پر مسلم لیگ (ن) پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ہم ایم پی اے ہیں ہمارا بھی حق ہے کہ ہم حکومت کے ہر غلط کام پر تنقید کریں ،پنجاب اسمبلی میں قانون کاغلط استعمال ہو رہا ہے۔ہمارے نمبر کم کرنے کے لئے ہمارے ممبران کو معطل کیا جاتا ہے ،اسپیکر رولز کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں ،ہم بار گا گزارش کرتے ہیں مگر ہماری درخواست پر سنوائی نہیں ہوتی ،ہم عدلیہ کا ہمیشہ احترام کرتے ہیں مگر ہمارے حقوق کا تحفظ بھی آپکی زمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا نعرہ ووٹ کو عزت دو ان کا نعرہ ووٹ لے کر دو ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کو اپنے ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کیاجارہاہے، عدالتوں سے اپنے حقوق کے تحفظ کی اپیل کی ہے،عدالت ہماری درخواست پر سماعت کرے