ڈالر آئیں گے تو ملک چلے گا، ہمیں اپنی برآمدات بڑھانا ہوں گی’ احسن اقبال

0
91

لاہور( این این آئی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ڈالر آئیں گے تو ملک چلے گا، ہمیں اپنی برآمدات بڑھانا ہوں گی، یہاںترقی کو راستے میں روکا گیاجبکہ بنگلا دیش اور بھارت نے ایسا نہیں کیا، اب بھی وقت ہے کہ سیاستدان مل بیٹھ کر دانش مندی سے پارلیمنٹ میں فیصلے کریں،ہمارے گزشتہ دور میں سی پیک دنیا میں پاکستان کا برانڈ امیج بن گیا تھا ،یہاں کوئی بلند وبالا دعوے کرے مگر یکم اپریل 2022 کو آخری ترقیاتی قسط دینے کا بجٹ نہیں تھا ،چینلز پر شرط لگتی رہی کہ ملک سری لنکا بننے جا رہا ہے ،ہمیں سخت اور غیر معمولی فیصلے کرنے پڑے ،ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سوچ میں فرق ہوسکتا ہے مگر برے نہیں ہوسکتے ، آج اختلاف کو نفرت میں تبدیل کیا جا رہا ہے جس سے ہمیں دشمن کی ضرورت نہیں ،نوجوانون سے اپیل ہے کہ وہ اختلاف رائے رکھیں مگر نفرت کرنے سے بچیں،ہم نے بھی ترقی یافتہ ممالک کی طرح پالیسیاں بنائیں لیکن ہم سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ سکے ،ہماری اولین ترجیح ہے کہ پاکستان کی برآمدات بڑھانی ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے جمعرات کے روزیہاں یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی )میں منعقدہ ”سول اینڈ کنسٹرکشن انجینئرنگ میں جدت لان”کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صدر یو ایم ٹی ابراہیم حسن مراد،ریکٹر یو ایم ٹی ڈاکٹر آصف رضا، ڈی جی یو ایم ٹی پروفیسر عابد شیروانی، پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران،ڈین سکول آف انجینئرنگ ڈاکٹر عثمان رشید سمیت دیگر فیکلٹی،قومی و بین الاقوامی سکالرز،ریسرچرز،سول انجینئرز ، طلبا نے شرکت کی اور سول انجینئرنگ کے حوالے سے50 سے زائد تحقیقی مقالہ جات بھی پیش کئے۔احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک پاکستان کے لیے ایک گیم چینجر منصوبہ ہے،گزشتہ سالوں میں بین الاقوامی سطح پر کنسٹرکشن انڈسٹری میں ٹیکنالوجی اور انوویشن نے بہت گہرا اثر چھوڑا اور تبدیلیاں لائی ہیں،سیاسی عدم استحکام ہمار ے ہاں ایک مسئلہ ہے اور پالیسیوں کا تسلسل نہیں رہا۔جس کی وجہ سے دیگر ممالک ہم سے آگے نکل گئے، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ملائیشیا اس کی مثال ہیں،قوم اور نوجوانوں سے اپیل ہے کہ اختلافِ رائے ضرور رکھیں لیکن نفرت نہ پالیں، معاشرے کو پولرائزڈ کر دیا گیا جبکہ ملک کو استحکام کی اشد ضرورت ہے۔معاشرے کو ڈی پولرائزڈ کرنا ہو گا، یہاں استحکام، برداشت، صبر اور ترقی کا سبق پروان چڑھانا ہو گا۔یہ سوچنا ہو گا کہ نفرت سے معاشرے نہیں چل سکتے، ہمیں اشد ضرورت ہے کہ ایک دوسرے پر تنقید میں احترام سامنے رکھیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشی ماہرین، تاجر وں اور صنعت کاروں کوجدید ٹیکنالوجی کی طرف آ نا چاہیے کیونکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے بغیر ملکی ترقی ممکن نہیں،جتنی زیادہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری آ ئے گی معیشت اتنی زیادہ ترقی کرے گی، ڈالر آئیں گے تو ملک چلے گا۔ہمیں نوجوان نسل کو اچھا مستقبل دینے کی طرف جانا ہو گا،ایک وقت تھا جب پاکستان اوپر جا رہا تھا لیکن پھر بار بار اس راستے کو روکا گیا۔ہم نے ترقی کو راستے میں روکا جبکہ بنگلا دیش اور بھارت نے ایسا نہیں کیا،اب بھی وقت ہے کہ سیاستدان مل بیٹھ کر دانش مندی سے پارلیمنٹ میں فیصلے کریں،ملک ڈیفالٹ ہونے کی خبروں میں صداقت نہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ اب حالات بدل گئے ہیں اور ہمیں دوسرے ملکوں سے قرضے مانگنے پڑ رہے ہیں، پاکستان ڈیفالٹ کرنے لگا تھا لیکن ہم نے اسے سنبھال لیا۔شہر تیزی کے ساتھ پھیل رہے ہیں، سعودی عرب بہت بڑا شہر نیوم سٹی آباد کر رہا ہے، دنیا کے بڑے بڑے پراجیکٹس میں ہم کیوں نہیں جا سکتے؟،ہمارے پاس بہترین آرکیٹیکٹس ہیں، نوجوان نسل میں صلاحیت موجود ہے، کنسٹرکشن انڈسٹری نئی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرے۔