جمہوریت کو صرف اسٹیبلشمنٹ ، عدلیہ کے بعض لوگ کمزور نہیں کرتے سیاستدان بھی کرتے ہیں ‘ سعد رفیق

0
223

لاہور( این این آئی) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ جمہوریت کو صرف اسٹیبلشمنٹ یا عدلیہ کے بعض لوگ کمزور نہیں کرتے بلکہ سیاستدان بھی کرتے ہیں جب وہ آپس میں بے رحمی کے ساتھ لڑتے ہیں اوراقتدا ر کیلئے پارلیمنٹ جیسے اداروں پر بھی پل پڑتے ہیں جو ہمیں تحفظ دیتے ہیں جو عوام کے حقوق کو محفوظ کرتے ہیں ،ایسے نہیں ہوگا کہ آپ گزشتہ سے پیوستہ کی بات نہ کریں،آپ کوملک کو2017ء کی پوزیشن پر واپس لے کر جانا ہوگا،جو آپ کہیں گے وہی ہوگا بالکل بھی ایسا نہیں ہوگا ، آج پھر کہہ رہے ہیں عمران خان کو واپس لے کر آئو ، نواز شریف کو انصاف کس نے دینا ہے، وہی دیں جنہوںنے نا انصافی کی ہے، ہم نے اس کا ٹوکرا اٹھا لیا ہے اورچونکہ نظر آرہاہے عوام مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہے یہی وقت ہے کہ ان کو دوبارہ گرائو ، پھر گرانے والا کوئی چکر نہیں ہے ، ہمارا پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،ہم ملک میں جوتے کھانے کے لئے پیدا نہیں ہوئے ، فریٹ ٹرینوں کے کرایوں کے میں 10سے15فیصد کمی کر رہے ہیں ، عید الفطر سپیشل ٹرینیں چلائی جائیں گی ، 30جون تک مزید قراقرم ایکسپریس اور کراچی ایکسپریس کو گرین لائن کی طرز پر اپ گریڈ کریں گے۔ پاکستان ریلوے ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان ریلوے نے 100روز کا ایک پلان بنایا ہے جس پر کام کر رہے ہیں ،ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں لیکن ریلوے کو اپنی ٹرینوں کو اپ گریڈ کرنا ہے ،اگر 2017ء میں کھلواڑ نہ کیا جاتا اورنظام چلتا رہتا تو ہم نے پانچ سال میں اس قابل ہو جانا تھا کہ 80سے90فیصد اکانومی کو اے سٹینڈرڈ میں تبدیل کر دیتے ۔ لیکن میں مشورہ دے کر جائوں گا کہ ریلویز کو اپنی ٹرینوں کو مرحلہ وار اس سطح پر لانا ہے ۔سمر سیزن ٹرینیں چلانے کا پلان کر رہے ہیں جس کے تحت عوام ایکسپریس، شالیمار اور بہائو الدین زکریا ٹرین چلیں گی ،پشاور سے کراچی براستہ راولپنڈی ایک نئی کارگو ٹرین چلانا جارہے ہیں جو ساڑھے 1200ٹن سامان لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ ریلوے میں بہت بڑا مالی بحران ہے اورمیں نے ریلوے میں پہلے نہیں دیکھا تھا، تنخواہیں اور پنشن دینا مسئلہ بنا ہوگا، ہمیں برانڈنگ میں کامیابی ملی ہے