بشام واقعہ میں ملوث عناصر نہیں چاہتے پاک-چین دوستی آگے بڑھے، وزیراعظم

0
65

اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بشام واقعہ میں ملوث عناصر نہیں چاہتے ہیں کہ پاک-چین دوستی آگے بڑھے،چینی حکام اور عوام کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اس اندوہناک واقعہ کی تحقیقات کی جائیں گی ، ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا ملے گی،ذمہ داری کے ساتھ ساتھ احتساب کے بغیر دنیا کا کوئی کام نہیں چل سکتا، میں نے میکنزم طے کرلیا ہے، ہر وزارت کے ساتھ ماہانہ یا سہ ماہی نشست ہوگی جس میں کارکردگی، اہداف کے حصول اور تاخیر کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے گا۔کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 26 مارچ کو بشام میں اندوہناک واقعہ ہوا، جس میں 5 چینی انجینئرز اور ایک پاکستانی شہید ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ بشام واقعہ کے پیچھے وہ عناصر ہیں جو نہیں چاہتے کہ پاک-چین دوستی آگے بڑھے، ہم نے چینی حکام اور عوام کو یقین دہانی کروائی کہ اس اندوہناک واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی اور ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا ملے گی۔انہوںنے کہاکہ پوری کوشش کہ جائے گی کہ دوبارہ ایسا واقعہ نہ ہو، دہشتگردی کے خاتمے تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ 4 مارچ کو میں نے دوسری بار وزارت عظمی کا حلف اٹھایا، اللہ سے دعا ہے کہ ہماری رہنمائی فرمائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم تمام چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے تمام وزارتوں سے 5 سالہ منصوبہ شیئر کرلیا ہے، میں نے تمام وزارتوں کو کاغذات بھجوا دئیے ہیں جس میں اس 5 سالہ منصوبے کے اہداف اور خدوخال درج ہیں، ان مقاصد کے حصول کیلئے ہمیں سر جوڑ کر شبانہ روز محنت کرنی ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمارے پاس وزارتوں میں مایہ ناز سیکریٹریز ہیں، جو اچھے سیکریٹریز ہیں ان کو ستائش اور شاباش ملے گی تاکہ باقیوں کو ترغیب ملے، جو کام نہیں کریں گے ان کو سائیڈ لائن کردیا جائے گا۔شہباز شریف نے کہا آپ کو اپنے اہداف پورے کرنے کیلئے میکنزم بنانا ہوگا تاکہ فائل ورک کے انبار سے نمٹا جائے اور نئے آئیڈیاز پر کام کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں آئندہ 5 برس میں پاکستان کی معیشت کو بدلنا ہے، اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ابھی سے حکمت عملی بنائیں تاکہ ہم اس جانب تیزی سے دورنا شروع کردیں۔انہوںنے کہاکہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ احتساب کے بغیر دنیا کا کوئی کام نہیں چل سکتا، میں نے میکنزم طے کرلیا ہے، ہر وزارت کے ساتھ ماہانہ یا سہ ماہی نشست ہوگی جس میں کارکردگی، اہداف کے حصول اور تاخیر کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے گا۔شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں بتدریج اپنے قرضوں کو نیچے لے کر آنا ہے اور خودانحصاری کی طرف جانا ہے، آئی ایم ایف پروگرام سے ہمیں استحکام ضرور ملے گا کہ لیکن ہر شعبے میں ترقی اور روزگار کے مواقع ہمیں خود پیدا کرنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معیشت کا پہیہ تیزی سے چلے گا تو پاکستان آگے بڑھے گا، استحکام کے لیے ہمیں آئی ایم ایف کے دوسرے پروگرام کی ضرورت ضرور ہے، مگر کس شعبے میں کیسے ترقی کرنی ہے یہ آئی ایم ایف نہیں بتائے گا، ہمیں خود تیزی سے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔