تنازعہ کشمیر کے حل بغیر جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا ، حریت رہنماء

0
355

سرینگر(این این آئی)بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیرمیں حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے کہا ہے کہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام قائم نہیںہو سکتا۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے 5فروری کو آزاد جموںوکشمیر ، پاکستان اور دنیا بھر میں منائے جانے والے یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں سرینگر سے جاری اپنے بیانات میں کہاکہ بھارت کا ہٹ دھرمی پر مبنی رویہ گزشتہ سات دہائیوں سے تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ کشمیری بھارتی سامراج اور ہندو فسطائیت کے زیرتسلط خونریزی اور تباہی کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں۔ حریت کانفرنس کے ورکنگ وائس چیئرمین غلام احمد گلزار نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں 5اگست 2019کے بھارت کے یکطرفہ اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جموںوکشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے مقبوضہ علاقے کے تمام قوانین کو تبدیل کردیاگیا ہے جس سے بڑے پیمانے پر کشمیریوںکی نسل کشیُ شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء اور انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے ہمسایہ جوہری طاقتوں بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جموں و کشمیر میں بھارت کی طرف سے یکطرفہ اقدامات کے تسلسل کو خطے میں امن و استحکام کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔انہوںنے کہاکہ اقوام متحدہ کی طرف سے مذاکراتی عمل کی تجویزناگزیر اور خدشات کے ازالے کا واحد راستہ ہے۔آغا حسن الموسوی نے خطے میں پائیدار امن وسلامتی کو یقینی بنانے کیلئے تنازعہ کشمیر کے حل کے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے مطالبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اقوام متحدہ کی طرف سے کشمیر سے متعلق بیانات کا تواتر اس بات کا آئینہ دار ہے کہ عالمی برادری تنازعہ کشمیر کے حتمی حل کی متمنی اور منتظر ہے۔سینئر حریت رہنماء نے 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کرنے پر پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست 2019 کو جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیرمیں کشمیریوںکیلئے ناقابل قبول یکطرفہ اقدامات کا سلسلہ جاری ہے اور جموںوکشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت اور متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کیلئے ایک منصوبہ وضع کیاجارہا ہے