ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ایک بار پھر نیب پر برس پڑے

0
84

کراچی(این این آئی)ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا ایک بار پھر نیب پر برس پڑے ، بزنس کمیونٹی نیب کے خلاف اٹھ کھڑی ہو ، نجی لین دین اور معاہدوں میں نیب کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے ۔ ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس کراچی میں تاجروں سے خطاب اور بعدازاں میڈیا سے بات چیت میںڈپٹی چیئرمین سینٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ نیب سے سب پریشان ہیں ، نیب کے حوالے سے قانون سازی پر حکومت اور اپوزیشن کے معاملات نہیں طے پا رہے،آج نہیں تو کل مگر قانون سازی تو ہونی ہی ہے،نیب کا جو کام نہیں ہے وہ نہ کرے ،نیب کسی بھی کاروباری شخصیت یاعام پاکستانی کا کیس نہیں لے سکتا ہے،نیب کا درائرہ اختیار حکومتی رقوم کی خورد برد سے ہے،نیب چیئرمین کے سینٹ آنے پر میڈیا نے ہوّا بنایا ہوا ہے ،نیب چیئرمین دو مرتبہ پہلے بھی مسنگ پرسنز کیس میں سینٹ آچکے ہیں،آرمی چیف سمیت دیگر اداروں کے سربراہ بھی آتے ہیں ۔اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر ناصر حیات مگوں،نائب صدورعارف یوسف جیوا،اطہرسلطان،زکریاعثمان،کے سی سی آئی کے صدرشارق وہرہ نے بھی خطاب کیا جبکہ فیڈریشن کے نائب صدور حنیف لاکھانی،عدیل صدیقی،حاجی غنی عثمان،خرم اعجاز،سلطان رحمان ،عبدالرحیم جانو،جنیدماکڈا،رفیق سلیمان اوردیگر بھی موجود تھے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ میرا جو نیب سے معاملہ ہے اس پر چیئرمین نیب کو کہا کہ کیس کورٹ میں بھیج دیں ،کاروباری شخص کبھی بھی نیب کے ساتھ نہیں الجھتا ،میں اگر سیاست میں نہیں ہوتا تو نیب سے معاملات طے کرلیتا،تاریخ میں پہلی بار آج نیب پر سینٹ میں سیشن ہے،یہ میں نے تو نہیں بلایا، سب نیب سے پریشان ہیں ،لوگ نیب کیخلاف لکھ رہے ہیں ۔ سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ کوئی بھی پرائیوٹ کیس نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ، بزنس کمیونٹی گھبرائیں نہیں کیونکہ جو ڈر گیا وہ مر گیا ،بزنس مین نیب کے ساتھ انفرادی رابطے کے بجائے فیڈریشن کا پلیٹ فارم استعمال کریں ۔سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پوری دنیا میں ہنر مند افراد کی اشد ضرورت ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ہنر مندی سیکھانے والے انسٹی ٹیوٹ نہ ہونے کے برابر ہیں، دھابیجی کا انڈسٹریل زون چائنا کو دے دیا گیا تھا لیکن دھابیجی انڈسٹریل زون کو چائنا کو دینے میں کچھ مسائل کی وجہ سے تعطل کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں سڑکوں کے حوالے سے وزیر اعلی سندھ سے بھی بات ہوئی تھی،سائیٹ انڈسٹریل ایریا میں سڑک کی تعمیر کے لئے ایک ارب روپے رکھے گئے تھے ، صنعتی ایریا کی ایسوسی ایشن کو بھی اب فیصلے کرنا ہوگا۔ ڈپٹی چئیرمین سینٹ نے کہا کہ سڑکوں کی مرمت اور تعمیر کے لئے تمام ایسوسی ایشن اس کی بہتری کام کریں،بزنس مین ا پنے ایشوز کو حل کرانے کیلئے اسلام آباد بھی آیا کریں ،چارٹر آف اکانوی بہت اہم ایشو ہے ،آج تک اکانوی آف چارٹر پر پیش رفت نہیں ہوئی ،کوئی بھی اکانوی آف چارٹر کے خلاف نہیں ہے ،تمام چیمبر مل کر اکانوی آف چارٹرڈ کا ڈرافٹ تیار کریں ،فوج ، عدلیہ سیمت تمام اسٹیک ہولڈز چاہتے ہیں معیشت بہتر ہو۔