قومی اسمبلی نے کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کی شہادت پر قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی

0
62

اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی نے کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کی شہادت پر قرارداد متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے بھارتی حراست میں سید علی گیلانی کی شہادت اور ان کی لاش چھیننے پر عالمی اداروں سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ چوتھے پارلیمانی سال کے پہلے دن ہی حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام رہی ،قرارداد کی منظوری کے بعد اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کردی اور ایوان سے واک آؤٹ کرگئے کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس پیر شام 5بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں شروع ہوا اجلاس شروع ہوا توکشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی ودیگر جاں بحق ہونے والوں کیلئے ایوان میں دعا کی گئی ۔ دعا مغفرت مولانا عبداکبر چترالی نے کی ۔ دعائے مغفرت کے بعد اپوزیشن نے احتجاج کیا جس پر سپیکر نے کہاکہ کشمیر حریت رہنما سید علی گیلانی کے حوالے سے قرار داد پاس کرنی ہے جس پر سعد رفیق نے کہاکہ جس طرح اجلاس کو چلایا جاریاہے اس پر ہمیں تحفظات ہیں مگر سید علی گیلانی سب کے لیڈر ہیں اس لیے ہم قرار داد پاس ہونے کے بعد ہم احتجاج کریں گے۔پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کہاکہ جس طرح ایوان کو چلایا جارہاہے اس حوالے سے احتجاج کریں گے قرار داد پاس ہونے کے بعد واک آئوٹ کریں گے ۔ لیگی رہنما سعد رفیق نے کہاکہ سید علی گیلانی سب کے لیڈر ہیں ۔ بعد ازاں وزیر مملکت علی محمد خان نے سید علی گیلانی کے حوالے سے قرار داد پیش کی۔علی محمد خان نے کہاکہ پورا ایوان سید علی گیلانی کے ساتھ ہے پورا پاکستان گیلانی صاحب کے ساتھ کھڑا ہے۔ سید علی گیلانی کی جدوجہد کا سلام پیش کرتے ہیں انہوں نے تحریک آزادی کشمیر کیلئے زندگی وقف کررکھی تھی،ظلم کے خلاف آواز بلند کی پوری قوم ان کی جدوجہد کو سلام پیش کرتی ہے۔انہوںنے کہاکہ سید علی گیلانی کی لاش چھینے کی شدید مذمت کرتا ہے ،عالمی برادری اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے روکے۔انہوںنے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنی جودجہد میں ضرور کامیاب ہوں گے۔قرار داد متفقہ طور پر پاس ہوگئی۔قرارداد پاس ہونے کے بعد آغارفیع اللہ نے کہاکہ پی آر اے کو بند کرنے کی مذمت کرتا ہوں اور کورم کی نشاندہی کرتا ہوں جس پر سپیکر نے کہاکہ پی آر اے کے حوالے سے میں موقف دے چکا ہوںاور گنتی کا حکم دیا۔آغا رفیع اللہ نے کورم کی نشاندہی کردی اور ساتھ ہی اپوزیشن واک آؤٹ کرگئی جس پر ایوان میں گنتی کی گئی ایوان میں کورم پورا نہیں تھا جس پر کارروائی معطل کردی گئی اس کے بعد دوبارہ اجلاس شروع ہوا مگر کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس پیر شام 5بجے تک ملتوی کردیا گیا۔