فوج سے بات چیت کیلئے تیار ہیں، مریم نواز

0
124

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن )کی نائب صدر مریم نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ میرے قریبی ساتھیوں سے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بات چیت کیلئے رابطے کئے گئے ہیں ،اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بات چیت پر غور کیا جا سکتا ہے، شرط یہی ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت کو گھر بھیجا جائے، فوج میرا ادارہ ہے ، ہم آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ضرور بات کریں گے ، جو بھی بات ہوگی چھپ چھپا کے نہیں عوام کے سامنے ہوگی ،(ن)لیگ بند گلی میں نہیں جارہی ہے ،ہر جگہ ایک ہی بیانیہ گونج رہا ہے ،اور وہ ہے ووٹ کو عزت دو اور ریاست کے اوپر ریاست مت بناؤ،پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک اپنا مؤقف ہے، پاکستان مسلم لیگ ن کا اپنا موقف ہے جو میاں صاحب نے واضح کر دیا ہے،عوامی ردِ عمل کا جواب دینا آئین کے مطابق اداروں کا کام نہیں منتخب حکومت کا کام ہے،موجودہ حکومت کیساتھ بات کرنا گناہ ہے،ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے عمران خان اور حکومت کو گھر جانا ہو گا اور نئے شفاف انتخابات کروائے جائیں۔بی بی سی کو دئیے گئے انٹرویو میں مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ان کے قریبی ساتھیوں سے بات چیت کیلئے رابطے کیے گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے میرے ارد گرد موجود بہت سے لوگوں سے رابطے کیے ہیں مگر میرے ساتھ براہِ راست کسی نے رابطہ نہیں کیا۔اس سوال پر کہ کیا وہ پاکستانی فوج کی موجودہ قیادت سے مذاکرات کرنے کو تیار ہیں مریم نواز شریف نے کہا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مذاکرات کے آغاز پر غور کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ جعلی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔ مسلم لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ فوج میرا ادارہ ہے، ہم ضرور بات کریں گے تاہم آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے۔ اگر کوئی کریز سے نکل کر کھیلنے کی کوشش کرے گا، جو (دائرہ کار) آئین نے وضع کر دیا ہے اس میں رہ کر بات ہو گی اور وہ بات اب عوام کے سامنے ہو گی، چھپ چھپا کر نہیں ہو گی۔انھوں نے کہا کہ میں ادارے کے مخالف نہیں ہوں مگر سمجھتی ہوں کہ اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تو اس حکومت کو گھر جانا ہو گا۔مریم نواز شریف نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام سٹیک ہولڈرز سے بات کر سکتی ہیں تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ حکومت کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ڈائیلاگ تو اب پاکستان کے عوام کے ساتھ ہو گااور ہو رہا ہے، اور اتنا اچھا ہو رہا ہے کہ جو بھی فورسز ہیں اور جعلی حکومت وہ گھبرائے ہوئے ہیں اور اتنا گھبرائے ہوئے ہیں کہ ان کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کیسے ردعمل دینا ہے اور گھبراہٹ میں وہ اس قسم کی غلطیاں کر رہے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ اس ملک کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈر عوام ہیں۔مریم نواز نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی سیاست بند گلی کی جانب نہیں جا رہی،میرا خیال ہے کہ بند گلی کی طرف وہ لوگ جا رہے ہیں جنھوں نے یہ مصنوعی چیز بنانے کی کوشش کی، ہم تو جہاں جا رہے ہیں، چاہے وہ گوجرانوالہ ہے، کراچی ہے، کوئٹہ ہے یا گلگت بلتستان ہر جگہ ایک ہی بیانیہ گونج رہا ہے اور وہ ہے ووٹ کو عزت دو اور ریاست کے اوپر ریاست مت بناؤ۔انہوں نے کہاکہ عوام نے اس کا ثبوت جگہ جگہ دیکھ لیا، اب یہ بند گلی نہیں ہے، اب یہی راستہ ہے، اور یہ راستہ آئین و قانون کی بالادستی کی جانب جا رہا ہے۔اس بات پر کہ بلاول بھٹو کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ نواز شریف کی جانب سے انتخابات میں مداخلت کے ثبوت سامنے لانے کے منتظر ہیں ۔مریم نواز نے کہاکہ میاں صاحب نے بات بعد میں کی ہے اور ثبوت خود عوام کے سامنے آئے ہیں، شوکت عزیز صدیقی، جج ارشد ملک اور ڈان لیکس کی حقیقت آپ کے سامنے ہے جب آپ ایک چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں کرتے تو وہ ڈان لیکس جیسی ایک جھوٹ پر مبنی چیز کھڑی کر دیتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک اپنا مؤقف ہے، پاکستان مسلم لیگ ن کا اپنا موقف ہے جو میاں صاحب نے واضح کر دیا ہے۔کراچی میں اپنے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کیلئے آئی جی سندھ پر عسکری حکام کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ اور اس کی تحقیقات کے بعد فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز پر ردِ عمل دیتے ہوئے مریم نے کہا کہ اس پریس ریلیز سے عوام کو جواب نہیں ملے، مزید سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔ آپ قوم کو یہ کہہ رہے ہیں کہ کچھ جذباتی افسران نے عوامی دباؤ کا ردِعمل دیتے ہوئے یہ کیا۔ کون سا عوامی ردِ عمل تھا، وہ جعلی لوگ جنھوں نے مقدمہ درج کروایا اور پھر مدعی ہی بھاگ گیا، ان تین چار لوگوں کے دباؤ کو آپ عوامی دباؤ کہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ عوامی ردِ عمل کا جواب دینا آئین کے مطابق اداروں کا کام نہیں منتخب حکومت کا کام ہے۔ اداروں کا کام اپنی پروفیشنل ذمہ داریاں نبھانا ہے ناکہ جذبات دکھانا۔انہوںنے کہاکہ اداروں کا کام جذبات کے ساتھ نہیں ہے، اور ان کا کام ہے اپنی آئینی اور پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانا ہے اس میں جذبات کا کوئی عمل دخل نہیں اور اگر واقعی کسی نے یہ جذبات میں آ کر کیا ہے تو یہ تو ادارے کے لیے اور پاکستان کے لیے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ایسا نہیں ہوا، چند جونیئر افسران کو قربانی کا بکرہ بنا دیا گیا، یہ غلط بات ہے۔