مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں پیش ہونیوالے اولین مسائل میں سے ہے جو اب تک حل طلب ہے ،بیرسٹر سلطان محمود چوہدری

0
92

نیو یارک (این این آئی)صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں پیش ہونے والے اولین مسائل میں سے ہے جو کہ اب تک حل طلب ہے اور اس پر اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کا فیصلہ کشمیری عوام اپنی مرضی ومنشاء کے مطابق کریں گے۔ اس کے لئے انہیں اُن کا بنیادی حق، حق خودارادیت دیا جائے گا لیکن بھارت آج تک اپنی روایتی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور وہ کشمیری عوام کو اُن کا حق خودارادیت کا حق دینے سے انکاری ہے نہ صرف یہ بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی نو لاکھ فوج نے مظالم اور بربریت میں بے انتہاء اضافہ کر دیا ہے اور 5اگست 2019کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں ایسے اقدامات اُٹھانے شروع کر دئیے ہیں جس سے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو ختم اور مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔ میں آج یہاں ڈیڑھ کروڑ کشمیری عوام کی آواز انٹرنیشنل کمیونٹی تک پہنچانے آیا ہوں اور میں تمام کشمیریوں کی طرف سے اقوام متحدہ اور او آئی سی کے تمام وزرائے خارجہ سے اپیل کروں گا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقوق کی پامالی بند کرانے کے لئے بھارت پر زور دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یہاں نیو یارک میں اقوام متحدہ میں اسلامی رابطہ تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر ریاست آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں سفاکیت میں اضافہ کر دیا ہے اور بھارت مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کر رہا ہے اسی طرح وہاں کی حلقہ بندیاں بھی تبدیل کی جا رہی ہیں تاکہ ایک ہندو وزیر اعلیٰ کو لانے کی راہ ہموار کی جا سکے اور مسئلہ کشمیر کو ختم اور مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کر سکے لیکن مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام بھارت کی تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود اپنے جذبہ حریت میں پرعزم اور مضبوطی سے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور بھارت اپنے توپ و تفنگ سے کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو زیر نہیں کر سکتا۔ لہذا میں آج یہاں اقوام عالم بالخصوص او آئی سی سے اپیل کروں گا کہ وہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی کھل کر حمایت کریں اور بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی بند کرانے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔