فواد چودھری کی گرفتاری جمہوریت، قانون کی بالادستی پر طمانچہ ،ثابت ہوا پاکستان میں کسی قانون کی حکمرانی نہیں’ تحریک انصاف

0
45

لاہور( این این آئی) پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی کے سینئر رہنما فواد چوہدری کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فواد چودھری کی گرفتاری جمہوریت، قانون کی بالادستی پر طمانچہ ہے،ثابت ہوا کہ پاکستان میں کسی قانون کی حکمرانی نہیں،کیا ملک میں جمہوری حکومت قائم ہے؟ ،فواد چوہدری کو چور ،دہشتگرد کی طرح اٹھایا گیا ،کیا مارشل لاء لگ چکا ،اسکا اعلان باقی ہے ،گرفتاریوں سے حوصلے پست نہیں ہوں گے، ہمیں اب اپنے بنیادی حقوق کے لیے کھڑا ہونا چاہیے تاکہ پاکستان کی کو ایسے مقام کی طرف بڑھنے سے بچایا جا سکے جہاں سے واپسی ممکن نہیں،خدارا پاکستان کے ساتھ کھلواڑ بند کیا جائے، ورنہ حالات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فواد کی گرفتاری سے کسی کے ذہن میں کوئی شک ن و شبہہ باقی نہیں رہتا کہ پاکستان قانون کی حکمرانی سے خالی اور بنانا ری پبلک بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اب اپنے بنیادی حقوق کے لیے کھڑا ہونا چاہیے تاکہ پاکستان کی کو ایسے مقام کی طرف بڑھنے سے بچایا جا سکے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ 22 کروڑ عوام تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں۔فواد چودھری تحریک انصاف کے ہراول دستے کے کارکن ہیں، ان کے خلاف کیس انتقامی کارروائی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت مجھے کبھی گرفتار نہیں کر سکتی،اِن کے اپنے مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین و سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فواد چودھری کی گرفتاری جمہوریت اور قانون کی بالادستی پر طمانچہ ہے۔فواد چودھری کی علی الصبح بغیر وارنٹ گرفتاری اس ملک کی جمہوریت اور قانون کی بالادستی پر ایک زور دار طمانچہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کیا قصور ہے فواد چودھری کا، کس جرم کے تحت اٹھایا گیا اسے، خدارا پاکستان کے ساتھ کھلواڑ بند کیا جائے، ورنہ حالات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جو آج فواد کے ساتھ ہوا کل کسی اور کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ حکومت کی ترجیحات عمران خان اور ان کی جماعت کو نیچا دکھانا ہے۔انہوں نے کہا کہ نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی کی تقرری پر ہمیں سنجیدہ تحفظات ہیں۔ الیکشن کمیشن کو نگران وزیر اعلی کی تقرری کے خلاف اپنے تحفظات ریکارڈ کروائے،ان کے مقرر ہونے کے 24 گھنٹے کے اندر جو حالات ہوئے وہ سب کے سامنے ہیں۔شاہ محمود قریشی کے مطابق پنجاب کے نگران وزیر اعلی کے لیے ہم نے کوشش کی کہ ایسا نام دیں جو پی ڈی ایم کے لیے قابل قبول ہو۔ شفاف انتخابات پی ڈی ایم کو وارا نہیں کھاتے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اب جو نئی تعیناتیاں ہوں گی اس سے اپنے من پسند نتائج حاصل کیے جا سکیں گے۔ ان اقدامات سے پورے انتخابی عمل متاثر ہو گا۔تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے فواد چوہدری کی گرفتاری کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو منشی کہنے پر فواد چوہدری کو گرفتار کیا گیا، کسی کو منشی یا کوئی اور اصطلاح استعمال کرنا گرفتاری کا سبب کیسے بن سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کیا فواد چوہدری کو سی ٹی ڈی لاک اپ میں رکھنے کی اجازت ہے؟دہشت گرد آزاد گھوم رہے ہیں لیکن سیاسی مخالفین گرفتار ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری نے جمہوریت کے لیے آواز اٹھائی اور ان کا یہ حشر کر دیا گیا ہے۔جس طریقے سے فواد چوہدری کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں ،کون سا قانون اس کی اجاز ت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت ایک مذاق بن کے رہ گئی ہے۔ صدر علوی کو کہتی ہوں کہ آپ پاکستان اور انصاف کے لیے کھڑے ہوں ، آپ صدر ہیں اپنی پاور دکھائیں۔ پاکستان بچانے کے لیے آپ کو پوری طرح پوزیشن لینا ہو گی۔شیری مزاری نے کہا کہ ریاستی اداروں کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ چیف جسٹس آپ بھی قانون کے لیے کھڑے ہوں۔تحریک انصاف وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری حماد اظہر نے کہا کہ فواد چوہدری نے ہمیشہ قانون کی بالادستی کی بات کی، فواد چوہدری کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے اغوا کیا گیا، ان کو ایسے اٹھایا گیا جیسے چور اور دہشتگرد کو اٹھایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ فرخ حبیب نے فواد چوہدری کو لیجانے والی گاڑی کوروکنا چاہا لیکن روکنے کی کوشش پر دیگر دو گاڑیوں نے فرخ حبیب کی گاڑی کا تعاقب کیا۔حماد اظہر نے کہا کہ فواد چوہدری سے متعلق اب تک نہیں بتایا گیاکہ کہاں رکھاگیاہے، فواد ہمیشہ قانون اور آئین کی بات کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو گرفتار کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی، عمران خان کے گھر کے باہر ہمارے کارکن 24 گھنٹے موجود رہیں گے۔حماد اظہر نے کہا کہ بتائیں کہ کیا مارشل لا لگ چکا اور اسکا اعلان باقی ہے؟ ۔متنازعہ نگران وزیراعلی کو کیا اس مقصد کیلئے لگایا گیا تھا، اس ظلم اور بربریت کوختم کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی کواٹھایا تھا، کیا اسکی آواز دبا لی گئی؟۔