کنن پوش پورہ کا واقع ہندوستان کے ظلم وبربریت کی علامت ہے، سردار تنویر الیاس

0
309

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر سردار تنویر الیاس نے کہا ہے کہ کنن پوش پورہ کا واقع ہندوستان کے ظلم وبربریت کی علامت ہے، اس واقع سے انسانیت کانپ اٹھتی ہے اور ہندوستان کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آشکار ہوتا ہے۔ اس واقع پر عالمی برادری کی خاموشی ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔کشمیری اس واقع کویوم مزاحمت نسواں کشمیرکے طورپریاد کرتے ہیں۔کشمیری خواتین قابض بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں۔ ہندوستان کی جانب سے کشمیریوں کے ظلم وجبر کا یہ کوئی ایک واقع نہیں بلکہ مقبوضہ وادی میں آئے روز ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جن سے انسانیت دہل جاتی ہے۔سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ ہماری نئی نسل کوشایدہی اس واقعہ کاعلم ہو،یہ آج سے ٹھیک 32سال پہلے 23فروری 1991کادردناک سانحہ ہے،کنن پوش پورہ واقعہ میں ایک تلخ یاد ہے جو کشمیر کی تاریخ میں کبھی مسخ نہیں ہو سکتی ہے کنن پوش پورہ کشمیر میں دو جڑواں گاوں کے نام ہیں۔ یہ دونوں گاوں کشمیر کی راجدھانی سری نگر کے شمال میں تقریباً 90 کلو میٹر کی دوری پرضلع کپواڑہ میں آباد ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کنن پوش پورہ سانحہ کے حوالہ سے اپنے ایک پیغام میں کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 23فروری1991کی وہ یخ بستہ اور سیاہ رات تھی جب کشمیر میں پانیوں کو منجمد اور برف میں تبدیل کرنے والی سردی پڑھ رہی تھی، تریہگام آرمی کیمپ سے 4 راج پوتانہ رائفلزاور 68 مونٹائن بریگیڈ کی ایک کمپنی کنن پوش پورہ کو اپنے حصار میں لینے کے لیے نکلی۔ پہلے انہوں نے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر آف پولیس محمد سلطان کو انفارم کیا جس پر اس نے دو پولیس کانسٹیبل عبدالغنی اور بشیر احمد کو ان کے ہمراہ گاوں بھیجے۔ فوج رات 11 بجے کنن پوش پورہ پہنچ کر دونوں گاوں کو حصار میں لیا اور مساجد سے اعلان کرائے کہ سارے مرد گھروں سے باہر آ جائیں۔ عورتیں گھروں میں تن تنہا رہ گئیں۔ مردوں پر فرداً فرداً جسمانی تشدد کر کے نڈھال کر دیا گیا اور جن میں کچھ کسک باقی ہوتی ہے انہیں درختوں کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ پھرشراب کے نشے میں دھت بھارتی درندے گھروں میں داخل ہوئے اور8 برس کی بچیوں سے لے کر 80سال کی عمر تک 100 سے زائدخواتین کو اجتماعی آبروریزی کانشانہ بنا ڈالا۔اس خوفناک سانحہ کی کسی کوکانوں کان خبر نہیں ہونے دی گئی۔ کیونکہ آج سے بتیس سال پہلے ذرائع ابلاغ کے یہ وسائل میسرنہیں تھے،زیادتی کا شکارخواتین اپنی فریادکس کے پاس لے کرجاتیں کوئی امیدکی کرن نہ تھی مقامی پولیس تعاون کرنے کو تیار نہیں تھی، دنیاتک آواز پہنچانا بظاہر مشکل تھاعدالتیں اورتحقیقاتی ادارے آزادنہ تھے