کراچی (این این آئی) سپریم کورٹ نے کراچی کے مختلف معاملات پر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے سندھ بھر میں سرکاری زمینوں پر قبضہ ختم کرانے کی ہدایت کردی۔ساتھ ہی چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے طویل سماعت کے دوران ایک مرتبہ پھر حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ شہر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، وفاقی حکومت کی زمین، کینٹونمنٹ ایریا کو کیسے فروخت کرسکتے ہیں، کیا ملک میں کوئی قانون نہیں ہے، کیا کوئی نہیں دیکھ رہا۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے شہر قائد کے مختلف معاملات پر کیسز کی سماعت کی۔عدالت عظمی نے زمینوں کے ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے، کڈنی ہل پارک، متروکہ املاک کی زمین، ڈی ایچ اے، کلفٹن کے رہائشیوں کو پانی کی عدم فراہمی، کے پی ٹی کی زمین، رائل پارک ریزیڈنسی، پی اینڈ ٹی کالونی میں غیرقانونی تعمیرات سمیت مختلف معاملات کو سنا۔سماعت کے دوران صوبے بھر کی زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے سے متعلق جب معاملہ آیا تو سینئر رکن بورڈ آف ریونیو قاضی شاہد پرویز عدالت میں پیش ہوئے اور رپورٹ عدالت میں جمع کروائی۔ان کی پیش کردہ رپورٹ میں لکھا گیا کہ صوبے بھر کے اندر 7 کروڑ دستاویزات کو کمپیوٹرائڈز کردیا گیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا بات کررہے ہیں، آج بھی ہائی کورٹ میں جعلی دستاویزات کے کیس دائر ہورہے ہیں، اس پر رکن نے کہا کہ جعلی دستاویزات بڑی حد تک بننا ختم ہوچکے ہیں، سیکیورٹی پرنٹنگ پریس سے دستاویزات بنوائی جارہی ہیں، ہرکاغذ پر پرنٹنگ آئی ڈی موجود ہے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایک جعلی دستاویز میں خود پکڑی ہے اور منسوخ کی ہے، تمام مختیار کاروں کے پاس جو ریکارڈ ہے وہ ہمارے ریکارڈ سے میچ کرایا جاتا ہے، اس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ٹھٹھہ کی زمینوں کے ریکارڈ میں بہت گڑ بڑ ہے، ہر ایک نے اپنی مرضی کے دیہہ بنائے ہوئے ہیں۔اس پر سینئر رکن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نذر لغاری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی جنہوں نے بڑی تعداد میں جعلی انٹریز کی نشاندہی کی ہے، ایک ہزار سے زائد جعلی انٹریز ختم کردی گئی ہیں، 1100 سے زائد انٹریز عدالتی جائزے میں ہیں جبکہ بہت ساری جعلی انٹریز بلاک کردی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 1985 سے اب تک 2 لاکھ 40 ہزار سے زائد بوگس انٹریز کی نشاندہی کی گئی۔عدالت میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سینئر رکن بورڈ آف ریونیو سے پوچھا کہ سندھ میں سرکاری زمین بچی ہے کہ نہیں، جس پر رکن نے جواب دیا کہ صوبے کی بہت سرکاری زمین پڑی ہے، سپریم کورٹ نے ہماری بہت مدد کی ہے۔تاہم اس موقع پر انہوں نے سرکاری زمینوں پر تجاوزات ہونے کا اعتراف کیا اور بتایا کہ انسداد تجاوزات فورس روزانہ کارروائی کر رہی ہے۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سپرہائی وے پر جاکر دیکھیں 10، 10 منزلہ عمارتیں بنی ہوئی ہیں، سرکاری زمینوں پر تجاوزات بھری پڑی ہیں، پورے پورے شہر آباد ہوچکے ہیں، یونیورسٹی سے آگے جائیں غیر قانونی تعمیرات ہی تعمیرات ہیں۔
مقبول خبریں
گوادر بندرگاہ جلد از جلد فعال کرنے کیلئے جامع منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد(این این آئی) وفاقی حکومت نے گوادر بندرگاہ کو جلد از جلد فعال کرنے کیلئے جامع منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ کیاہے۔وزارت خارجہ...
بلوچستان میں دہشت گردی آپریشن سندور کا تسلسل ہے‘ طلال چودھری
اسلام آباد(این این آئی) وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی آپریشن سندور کا تسلسل ہے۔وزیر مملکت...
ایف آئی اے کا منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے حوالے سے اہم اقدام
اسلام آباد(این این آئی)وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)کے ڈائریکٹر جنرل رفعت مختار نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے حوالے سے تاریخی اقدام کرتے...
ڈی جی آئی ایس پی آر کا مظفرآباد کا دورہ، کشمیری عوام کا پاک...
مظفرآباد(این این آئی)ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کا اہم...
وزیر داخلہ کا دورہ بحرین،انسداد دہشتگردی و انسانی اسمگلنگ پر مشترکہ لائحہ عمل پر...
منامہ (این این آئی)وفاقی وزیر داخلہ کے دورہ بحرین کے دوران دونوں ملکوں میں انسداد دہشت گردی و انسانی اسمگلنگ پر مشترکہ لائحہ عمل...