عمران خان بھی ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں انہیں بھی زبان پرقابو ہوناچاہیے،سینیٹر عرفان صدیقی

0
117

اسلام آباد (این این آئی) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں اس وقت گرما گرمی پیدا ہوگئی جب تحریک انصاف کی رکن کمیٹی سینیٹر سیمی ایزدی نے ایجنڈا ختم ہونے کے بعد اضافی پوائنٹ پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی تقریر میں مبینہ طورپر خواتین کے خلاف ریمارکس کی مذمت کی ۔سینیٹر سیمی ایزدی نے کہاکہ خواتین کے بارے میں انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کر نے والے شخص کا محاسبہ کیا جانا چاہیے ۔ تحریک انصاف کے ایک اور رکن سینیٹر ڈاکٹر محمد ہمایوں نے سینیٹر سیمی ایزدی کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ مولانا فضل الرحمن نے بہت ہی ناشائستہ زبان استعمال کی ہے ۔ کمیٹی کو چاہیے کہ ایسے شخص کی مذمت کرے اور جو بھی کارروائی ممکن ہو کرے ۔ کمیٹی کے چیئر مین سینیٹر ولید اقبال نے کہاکہ یہ معاملہ ایجنڈے پر نہیں ہے تاہم مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر عرفان صدیقی بولے کہ معاملہ ایجنڈے پر نہ ہونے کے باوجود دو ارکان نے ایک ایسے شخص کے خلاف تقاریر کی ہیں جو یہاں موجود نہیں اور نہ ہی اس کی جماعت کا کوئی سینیٹر رکن یہاں موجود ہے ، یہ نا مناسب بات ہے ۔ عرفان صدیقی نے کہاکہ جب پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان جلسہ عام میں مریم نواز کا نام لے کر کہتے ہیں کہ وہ میرا نام نہ لیا کرے کہیں اس کا میاں ناراض نہ ہو جائے تو اس وقت بھی آپ لوگوں کو احتجاج کر ناچاہیے تھا ،اگر طلب ہی کر نا ہے تو سب کو طلب کریں ۔ پی ٹی آئی کے ڈاکٹر ہمایوں نے کہاکہ فضل الرحمن ایک دینی جماعت کے سربراہ ہیں ہر جگہ دین کی تبلیغ کرتے پھرتے ہیں ، اسلام کا نام لیتے ہیں کیا انہیں زیب دیتا ہے کہ وہ خواتین کے بارے اس طرح کی بات کریں ۔ اس پر سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ یقینا ایسی بات کسی کو بھی زیب نہیں دیتی انہیں بھی نہیں جو ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں ، جو خلفائے راشدین کے نظام کی بات کرتے ہیں جو زبان عمران خان بولتے ہیں وہ مدینہ یا خلفائے راشدین تو دور ،امویوں اور عباسیوں کے دور میں بھی نہیں سنی گئی اس پر چیئر مین کمیٹی ولید اقبال نے مداخلت کرتے ہوئے معاملہ رفع دفع کرادیا ۔