اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں کم از کم 2 فیصد تک اضافے کا امکان

0
57

کراچی (این این آئی)سرمایہ داروں نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)ایک آف سائیکل جائزے میں اس ہفتے کے اوائل میں شرح سود میں اضافے کیلئے تیار ہے کیونکہ ملک کو آئی ایم ایف سے ملنے والے ایک ارب ڈالر کے قرض کے دوران اپنے مالی معاملات کو توازن میں لانے کے لیے دبا کا سامنا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق حالیہ ٹریژری بل نیلامی میں مارکیٹ کے ماہرین مرکزی بینک کے پالیسی ریٹ میں کم از کم 200 بیسس پوائنٹس کے اضافے کی توقع کر رہے ہیں، جو اس وقت 17 فیصد پر ہے، متوقع اضافہ ان نرخوں پر مبنی ہے جو حکومت نے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے نیلامی کے لیے مقرر کیے ہیں۔حکومت نے گزشتہ روز ہونے والی نیلامی میں 258 ارب روپے اکٹھے کیے، تین ماہ، 6 ماہ اور 12 ماہ کی مدت کے لیے کٹ آف کی شرحیں پچھلی نیلامی کے مقابلے میں 195بی پی ایس، 206 بی پی ایس اور 184 بی پی ایس زیادہ ہیں۔نقد رقم کی کمی سے دوچار پاکستان آئی ایم ایف سے فنڈنگ کا حصول یقینی بنانے کے لیے کلیدی اقدامات کر رہا ہے جس میں ٹیکسوں میں اضافہ، سبسڈیز کو ہٹانا اور شرح مبادلہ پر پابندیاں شامل ہیں۔حکومت کو توقع ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جلد معاہدہ ہو جائے گا اور میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف کو توقع ہے پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ میں اضافہ کیا جائے گا۔مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اگلا اجلاس 16 مارچ کو شیڈول ہے۔پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی میں ریسرچ کے اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ عدنان شیخ نے کہا کہ شرح سود میں جلد اضافہ متوقع ہے اور اور یہ جمعے تک کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلی پالیسی میٹنگ بہت دور ہے، حالات کو دیکھتے ہوئے اس میں اضافے کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک اور آئی ایم ایف نے فوری طور پر اس حوالے سے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا