ٹیلی کام سیکٹر کے ریونیو میں 129 فیصد اضافہ ہوا، سالانہ رپورٹ

0
157

لاہور(این این آئی )پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ مالی سال 2020 کے دوران ٹیلی کام سیکٹر سے قومی خزانے کو 278 ارب وصول ہوئے۔سالانہ رپورٹ کے مطابق ٹیلی کام سیکٹر پاکستان کی معیشت میں نمایاں عنصر بن کر ابھرا ہے جس نے گزشتہ برس کے مقابلے میں قومی خزانے کو 129 فیصد اضافی ریونیو کماکر دیا۔ مالی سال 2019 کے دوران ٹیلی کام سیکٹر سے قومی خزانے کو 121 ارب روپے کا فائدہ ہوا تھا۔ مالی سال 2020 کے دوران یہ ریونیو بڑھ کر 278 ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق لاک ڈائون کی وجہ سے ٹیلی کام سروسز کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کا اندازہ اس ان اعداد و شمار سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2019 میں پاکستانی صارفین نے 2545 پیٹا بائٹس ڈیٹا استعمال کیا جبکہ 2020 میں 4498 پیٹا بائٹس ڈیٹا استعمال ہوا یعنی ڈیٹا کے استعمال میں 77 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر نیٹ ورک کو اپ گریڈ نہ کیا جاتا تو یہ خاطر خواہ ترقی ممکن نہ ہوتی۔ اس وقت ملک میں بین الاقوامی سطح پر بینڈوتھ کی کیکٹیویٹی 3.1 ٹیرا بائٹس اور ملک میں 47 ہزار کے قریب سیل سائٹس ہیں، جن میں 90 فیصد سائٹس پر فورجی کی سہولت میسر ہے۔پی ٹی اے کی سالانہ رپورٹ کے مطابق پچھلے پانچ سالوں میں ملک میں کل براڈ بینڈ کی خریداری میں 175 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اب برڈ بینڈ کے صارفین 90 ملین کا ہندسہ عبور کر چکے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق ملک کی 87 فیصد آبادی کو ٹیلی کام نیٹ ورک کی سہولت میسر ہے اور پی ٹی اے آپریٹرز کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے تاکہ بقیہ 13 فیصد لوگوں تک بھی نیٹ ورک پہنچایا جائے۔ ملک میںا س وقت 172 ملین سے زیادہ موبائل صارفین اور 2.2 ملین فکسڈ لائن صارفین ہیں۔لاک ڈائون کی وجہ سے2020 میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہوئی تاہم ٹیلی کام سیکٹر نے ملک میں کی جانے والی مجموعی ایف ڈی آئی میں 25 فیصد حصہ ڈالا۔ مقامی آپریٹرز کے ذریعہ کی جانے والی کل سرمایہ کاری میں 14.25 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور مجموعی طور پر 734 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔مالی سال 2020 میں ٹیلی کام سیکٹر کی مجموعی آمدنی 537 ارب ہوگئی جو بنیادی طور پر موبائل سیکٹر سے ہوئی۔ اس دوران ٹیلی کام صارفین کو بھی اتنا ہی فائدہ ہوا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان میں ٹیلی کام کی سہولیات میں بہتری آئی ہے اور فی الحال ایک جی بی براڈ بینڈ کی قیمت 0.20 امریکی ڈالر سے تک ہے جو اس خطے میں سب سے کم قیمت ہے۔اسی طرح ڈیوائس رجسٹریشن سسٹم کی وجہ سے فون کی درآمد پر ٹیکس وصولی کے ساتھ حکومت کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ موبائل فون کی مقامی تیاری نے ٹیلی کام ایکو سسٹم کو زندہ کیا ہے جس میں مقامی 4 جی ڈیوائس مینوفیکچرنگ میں 34 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔