پا کستانی و چینی ماہرین کی سی پیک میں مستقبل کی ترقی پرتوجہ

0
113

اسلام آباد (این این آئی)چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کا فلیگ شپ منصوبہ ، چین پاکستان کے درمیان ہر قسم کے حالات میں اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کا عکاس رہا ہے۔ یہ بات معروف چینی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر وانگ ای وے نے ایک بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مکالمے میں کہی جس کا موضوع تھا۔ گزشتہ دہائی میں چین پاکستان تعلقات کی ترقی میں بی آر آئی کا کردار۔ مکالمے میں سی پیک کے تحقیقی منصوبوں پر کام کرنے والے صحافیوں، اسکالرز، ماہرین اور ماہرین تعلیم کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اہم مقرر جین مونیٹ چیئر پروفیسر، انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے ڈائریکٹراور چین کی رین من یونیورسٹی میں سینٹر فاریورپین اسٹڈیز کے ڈائریکٹر وانگ ای وے نے کہا کہ سی پیک ”چار ستونوں”توانائی، بنیادی ڈھانچہ، بندرگاہیں اور ترقیاتی زون پر قائم ہے۔ڈاکٹر وانگ نے اپنے خطاب میں راہداری کے 5 بڑے فوائد گنوائے ۔ انہوںنے کہاکہ چین پاکستان تعاون زیادہ سے زیادہ ممالک کو چین سے سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ صنعتی منتقلی ایشیا کے عروج کی تیسری لہر کو متحرک کرتی ہے، یوریشیا اور بحر ہند کو جوڑنا بی آرآئی کا مقصد ہے،۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی راہداری کو کامیاب بنانے کی کنجی ہے جس کیلئے تعمیر کے مختلف پہلوئوں کو ہم آہنگ کرنا چاہیے۔ سرگودھا یونیورسٹی میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف چائنہ اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فضل الرحمن نے مکالمے کے دوران کہا کہ سی پیک منصوبہ ایک تاریخی اقدام ہے جس سے ملک میں سرمایہ کاروں کو راغب کرنے، روزگار اور مقامی افراد کو کاروباری مواقع ملیں گے۔